خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 645
خطبات ناصر جلد دوم ۶۴۵ خطبہ جمعہ ۱۶ رمئی ۱۹۶۹ء کے پروگرام میں خدمت بنی نوع انسان اور حصول قرب الہی پر زیادہ زور ہے۔اگر آپ سوچیں تو آپ اس نتیجہ پر پہنچیں کہ اگر یہ خدمت کی روح غائب ہو جائے تو انسانی اقدار قائم نہیں ہوسکتیں اور اگر انسانی اقدار قائم نہ ہوں تو روحانی ترقیات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ روحانی ترقیات کے لئے جتنی ہدا یتیں اور شریعتیں نازل کی گئی ہیں وہ انسان پر نازل کی گئی ہیں وہ گدھے یا گھوڑے یا بیل یا دوسرے جانوروں پر نازل نہیں کی گئیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ شرعی تقاضوں کو پورا کر کے روحانی رفعتوں کے حصول کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان میں انسانی اقدار قائم ہوں۔اگر انسان انسانی اقدار کو قائم نہیں کرتا تو روحانی ارتقا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جب تک کسی سلسلہ میں یا کسی قوم میں یا بحیثیت مجموعی بنی نوع انسان میں روح خدمت نہ ہو اس وقت تک اس سلسلہ یا اس قوم یا بحیثیت مجموعی بنی نوع انسان میں انسانی اقدار قائم نہیں ہوسکتیں۔اگر ہم انسانی اقدار کو قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں خدمت کی روح کو زندہ کرنا پڑے گا اور اس خدمت کی زندہ روح کو لے کر کام کے میدان میں سرگرم عمل رہنا خدام الاحمدیہ کا ضروری پروگرام ہے۔خدام الاحمدیہ اس نکتہ کو سمجھتے ہوئے اس کام میں لگ جائیں کیونکہ خدمتِ اسلام و احمدیت تقاضا کرتی ہے خدمت انسان کا۔جو شخص انسان کی خدمت نہیں کرتا وہ احمدیت کی خدمت نہیں کرتا۔احمدیت اور اسلام ایک ہی چیز ہیں اور اسلام نے بنی نوع انسان کی بحیثیت بنی نوع انسان خدمت کی ہے۔وہ ایک مسلمان کو بلاتا ہے اور کہتا ہے تم نے انسان کی خدمت کرنی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک دہر یہ جو مجھ کو گالیاں دیتا ہے ( تم نے اس کے حقوق کو بھی تلف نہیں کرنا ) اس کے حقوق کی بھی تم نے حفاظت کرنی ہے تب یہ اُمید ہو سکتی ہے کہ وہ کسی وقت اپنے پیدا کرنے والے رب کی طرف رجوع کرے۔اگر تم اس کے حقوق تلف کرو گے تو وہ کون سی ایجنسی دنیا میں دیکھے گا جو یہ ثابت کرے گی کہ پیدا کرنے والے رب کی ربوبیت سے کوئی انسان باہر نہیں۔پس خدام الاحمدیہ کا کام ہے انسان کی خدمت، اس کے بغیر نہ اسلام کی خدمت ہو سکتی ہے اور نہ خدا تعالیٰ کے احکام عبادت کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکتا ہے۔آپ اس خدمت کے جذبہ کو، اس خدمت کی روح کو زندہ رکھ کر کام کریں اور دنیا کو خدا کے نام پر اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم