خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 641
خطبات ناصر جلد دوم ۶۴۱ خطبہ جمعہ ۱۶ رمئی ۱۹۶۹ء سوال ہے آج بھی اگر آپ مردم شماری کریں تو ایک حصہ افراد جماعت کا اس وقت یہاں موجود نہیں گوان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ ان کا عذر جائز ہے اور ان پر کوئی الزام نہیں آتا مگر بعض ایسے بھی ہیں جو محض شستی کی وجہ سے جمعہ کے لئے نہیں آئے ورنہ وہ آسکتے تھے اور جن کے کانوں میں خلیفہ وقت کی آواز نہیں پہنچتی یا کم پہنچتی ہے وہ تربیتی امور کی طرف متوجہ ہی نہیں ہو سکتے۔ہمارا کام ہے کہ کوشش کریں تا وہ لوگ جو خطبات سننے سے محروم ہو جاتے ہیں وہ بھی خطبات سن لیا کریں۔بہر حال اس ساری تفصیل کے بعد آج میں جس چیز کی طرف جماعت کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں اور جس پر زور دینا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ نماز با جماعت میں با قاعدگی پیدا کی جائے اور اس کے لئے بشاشت پیدا کی جائے پھر مسجد کے ماحول سے محبت پیدا کرنا ضروری ہے اور اس کی طرف ساری جماعت کو انصار اللہ کو بھی خدام الاحمدیہ کواور جماع کی تنظیم کو بھی متوجہ ہونا چاہیے اور جماعتی تنظیم کا یعنی جو تنظیم یہاں مقامی طور پر قائم ہے فرض ہے کہ ہر پندرہ روز کے بعد مجھے ایک رپورٹ دیا کریں تا مہینہ ڈیڑھ مہینہ کا وقفہ ہستی میں گزرنے کے بعد مجھے صرف مخلصین کی رپورٹوں سے ہی علم نہ ہو کہ کوئی شستی واقع ہو گئی ہے بلکہ تنظیم کی طرف سے بھی اس کا علم ہو جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہاں رہنے والوں کی اکثریت مخلصین کی ہے اگر کوئی سستی پیدا ہو جائے تو شروع میں ہی اس شستی کو دُور کیا جا سکتا ہے۔دوسری بات میں فضل عمر فاؤنڈیشن کے متعلق کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ایک پیارے کے احسانوں کے بندھنوں میں بندھے ہونے کی بنا پر اور اس کی حسین یاد میں ہم نے جماعت میں فضل عمر فاؤنڈیشن قائم کی تھی اس کے لئے دوستوں نے رقوم کی ادائیگی کے لئے وعدے کئے اور رقوم ادا کرنی شروع کیں اور یہ فیصلہ ہوا کہ تین سال کے اندراندر تمام وعدے پورے ہو جائیں تا وہ مقصد جلد پورا ہو جس کے حصول کے لئے ہم نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یاد میں ان رقموں کو پیش کیا ہے فضل عمر فاؤنڈیشن کیا کام کرے گی ؟ انہوں نے بعض کام تجویز کئے ہیں جو وہ اپنے محدود دائرہ میں کریں گے۔ان کے کام جماعت کےسامنے آتے رہتے ہیں۔ایک تو وہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی یاد میں ایک لائبریری کی عمارت بنانا چاہتے ہیں اور انشاء اللہ