خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 603
خطبات ناصر جلد دوم ۶۰۳ خطبہ جمعہ ۲ رمئی ۱۹۶۹ء اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑے انعام کرتا ہے اور بے شمار انعام ایسے ہیں کہ وہ جب کرتا ہے تو انہیں واپس نہیں لیتا لیکن بعض انعامات کو وہ واپس لیتا ہے تا بندہ یہ نہ بھول جائے کہ جو انعامات اس سے چھینے گئے وہ اس کی کسی خوبی یا اس کی کسی عزت یا اس کی کسی طاقت کی وجہ سے نہیں چھینے گئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل نے ہی وہ چیزیں اس کے پاس رہنے دی ہیں۔مثلاً اللہ تعالیٰ انسان کو بچے دیتا ہے۔اِلَّا مَا شَاء الله بعض استثناء ہیں۔ہر خاوند اور بیوی کو وہ بچے دیتا ہے اس کا یہی قانون ہے۔خدا کہتا ہے کہ بچوں کے متعلق جو تم فیصلہ کرو جو بھی Decision تم لووہ خالصہ میری رضا کے لئے ہو۔میری محبت میں ہو اور میری اطاعت کے لئے ہو۔ماں کہتی ہے بچے پر دین کا زیادہ بوجھ نہ ڈالو۔بیچارے کو تکلیف ہوگی۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے یہ بچہ میرا تھا۔میں اسے واپس لے لیتا ہوں۔چنانچہ وہ اسے وفات دے دیتا ہے۔پھر ماں وہاں بھی ناشکری کرتی ہے۔وہ پیٹنا شروع کر دیتی ہے لیکن نیک مائیں تیمار داری میں اور علاج میں پورا زور لگانے کے بعد جب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ صادر ہو جاتا ہے اِنَّا لِلَّهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہہ کر بشاشت کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہیں۔یہ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہنے والے ماں اور باپ وہ ہیں کہ جب وہ بچہ کے متعلق فیصلے کر رہے ہوں گے تو وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے فیصلے کر رہے ہوں گے ان کو پتہ ہے کہ یہ خدا کا انعام ہے ہمارا اس پر زور نہیں۔وہ جب چاہے واپس لے سکتا ہے۔اس لئے جو خدا کی چیز ہے اس کو خدا کی محبت میں محو اور اس کے نور سے منور رکھنا ضروری ہے وہ اس کی اس رنگ میں تربیت کرتا ہے لیکن جو لوگ اس رنگ میں بچوں کی تربیت نہیں کرتے وہ دراصل شرک اور کفر کر رہے ہوتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا بچہ ہے ہم اسے تکلیف کیوں دیں خدا کہتا ہے یہ میرا بندہ ہے۔میری بندگی کے لئے اسے تیار کرو اور میری راہ میں مشقتیں برداشت کرنے کی اسے عادت ڈالو لیکن ماں باپ کا فیصلہ الہی فیصلہ کے خلاف ہو جاتا ہے۔تب اس بندہ کو جھنجھوڑ کر جگانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی ایک دوسری قضا آسمان سے نازل ہوتی ہے اور اس دنیا سے اُسے اُٹھا لیتی ہے۔اسی طرح اموال ہیں یا دوسری چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ انعام کے طور پر اپنے بندوں کو دیتا ہے جب بندہ ان کی قدر نہیں کرتا جب بندہ اللہ تعالیٰ کی حقیقی عبادت پر قائم نہیں رہتا۔جب بندہ ان