خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 566 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 566

خطبات ناصر جلد دوم ۵۶۶ خطبہ جمعہ اارا پریل ۱۹۶۹ء اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے اور ہر انسان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی چاہیے تا کہ مقصد حیات حاصل ہو اس آیہ کریمہ میں عبادت کا جو لفظ استعمال کیا گیا ہے اللہ کے نزدیک اور شریعت اسلامیہ کی رو سے اس کے کیا معنی ہیں؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے سورۃ بینہ میں فرما یا کہ انہیں صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں۔دین کو محض اور محض اللہ کے لئے خالص کرتے ہوئے اس فقرہ یعنی مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین میں اللہ تعالیٰ نے عبادت کے اس مفہوم پر روشنی ڈالی ہے جو خدا تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے کہ انسان کی پیدائش کی غرض اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ پر جب ہم غور کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ لغت کی رُو سے الدّین مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے جن میں سے میرے خیال میں مندرجہ ذیل گیارہ معانی یہاں چسپاں ہوتے ہیں۔دین کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ عبادت کرنا " الدِّينُ الْعَبَادَةُ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے جب یہ کہا کہ انسان اللہ کی عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے تو میرا مطلب اس سے یہ ہے کہ ہر قسم کی عبادت اور پرستش صرف اور صرف اللہ کے لئے ہو اور اللہ ہی کی عبودیت اختیار کی جائے۔انسان اپنی جہالت اور گمراہی کے نتیجہ میں بسا اوقات اپنی پرستش میں غیر اللہ کو شامل کر لیتا ہے اور غیر اللہ کی یہ عبادت بعض دفعہ ظاہری ہوتی ہے۔بعض دفعہ خفیہ اور باطنی ہوتی ہے مثلاً بعض لوگ انسان کی پرستش شروع کر دیتے ہیں اس کی عبادت کرنے لگ جاتے ہیں اور منتیں ماننے لگ جاتے ہیں یا بے جان مخلوق کی پرستش شروع کر دیتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ اس مخلوق کو خوش کر کے یا ان کی وساطت سے اللہ خالق ہر دو جہان کو خوش کر کے کوئی فائدہ اُٹھالیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تمہیں اس لئے پیدا کیا ہے کہ ہر قسم کی عبادات صرف میری ہی کی جائیں اور میرے غیر کو عبادت اور پرستش میں شریک نہ کیا جائے یعنی تو حید خالص ہو۔(۱) خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ بت ہو یا انسان ، سورج ہو یا چاند یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکروفریب ( ہو ) منزہ سمجھنا۔