خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 567
خطبات ناصر جلد دوم ۵۶۷ خطبہ جمعہ اارا پریل ۱۹۶۹ء (۲) ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذات باری کسی میں قرار نہ دینا اور جو بظاہر ربّ اور فیض رساں نظر آتے ہیں یہ اس کے ہاتھ کا ایک نظام یقین کرنا۔دین کے دوسرے چسپاں ہونے والے معنی کی رُو سے مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ اپنی اطاعت اور فرمانبرداری کو صرف اللہ کے لئے خالص کر دو کیونکہ الدین کا لفظ الطاعة کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔صرف عبادات ہی کو اللہ کے لئے خالص نہیں کرنا بلکہ اطاعت اور فرمانبرداری کو بھی اللہ کے لئے خالص کر دینا ہے یعنی محبت و اطاعت وغیرہ شعار عبودیت میں دوسرے کو خدا تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہرانا اور اسی میں کھوئے جانا۔یہ بہت وسیع مضمون ہے اگر ہم اپنی زندگیوں کا محاسبہ کریں تو ہمیں اپنی زندگی میں بھی بہت سے واقعات ایسے نظر آئیں گے جب ہم نے اللہ کی اس خالص اطاعت کا حق ادا نہیں کیا ہو گا۔مثلاً ہم قانون کی اطاعت اس نیت سے نہیں کر رہے ہوں گے کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ قانونِ وقت کی اطاعت کرو بلکہ اس لئے کر رہے ہوں گے کہ اگر ہم نے قانونِ وقت کی اطاعت نہ کی تو ہمیں مصیبت میں پڑنا پڑے گا یعنی دنیا کی مصیبت سے بچنے کے لئے وہ اطاعت ہے اللہ کی رضا کے حصول کے لئے وہ اطاعت نہیں تو نیت کی بیماری اور نیت کی کمزوری اور نیت کی جہالت ہمیں اپنی زندگی میں بھی نظر آتی ہے اور بڑے ماحول میں تو یہ چیز بڑی کثرت سے نظر آتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے جس عبادت خالصہ کے لئے تمہیں پیدا کیا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم اپنی اطاعت اور فرمانبرداری کو خالصہ اللہ کے لئے کرو اور اَرْبَابٌ مِّنْ دُونِ اللہ کی اطاعت نہ کرو۔اس طرح پر ایک تو انسان ہر قسم کی غلامی سے بچالیا گیا اور اس کی ہر قسم کی دینی و دنیوی ترقیات کے لئے اور دینی و دنیوی انعامات کے حصول کے لئے ایک ہی کی غلامی کو کافی سمجھا گیا (جَلَ شَانُهُ وَ عَذَاسْبُهُ ) اور اس میں یہ فرمایا گیا ہے اور یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جس بندگی اور عبادت کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم صرف اور صرف اللہ کے غلام اور بندے بنو کسی اور کی اطاعت نہ ہو۔کسی اور کے لئے اطاعت نہ ہو کسی انسان کو خوش کرنے کے لئے فرمانبرداری کا اظہار نہ ہو ہر قسم کی اطاعت اور فرمانبرداری اللہ تعالیٰ کی اور اس کی رضا کے حصول