خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 558 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 558

خطبات ناصر جلد دوم ۵۵۸ خطبہ جمعہ ۱٫۴ پریل ۱۹۶۹ء پیدا ہوتی رہیں اور صرف تنظیم ہی قائم ہوئی اور شائد اس میں بھی کچھ شستی پیدا ہو گئی ہو۔کیونکہ ابھی تک ان سے کوئی خاص کام نہیں لیا گیا خدا چاہتا تھا کہ یہ تنظیم قرآن کریم کے پڑھنے اور پڑھانے سے اپنا کام شروع کرے اس لئے جہاں جہاں بھی یہ تنظیم قائم ہوئی ہو اس کے صدر صاحبان اور موصیات میں سے جو نا ئب صدر ہیں وہ ا۔ایک ماہ کے اندر اندر جائزہ لے کر رپورٹ کریں کہ ان کے حلقہ میں کس قدر موصی ہیں۔۲۔ان میں سے کس قدر قرآن کریم ناظرہ جانتے ہیں۔جو قرآن کریم ناظرہ جانتے ہیں ان میں سے کتنے قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہیں اور جو موصی موصیات قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہیں یا جانتی ہیں ان میں سے کتنے قرآن کریم کی تفسیر سکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نظام وصیت کی بنیا د اپنے اموال کے دسویں حصہ کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر نہیں رکھی تھی یہ تو ایک نچلا درجہ تھا جو موصیوں کے سامنے رکھا گیا تھا۔اصل غرض جس کے لئے نظام وصیت کو قائم کیا گیا تھا وہ کامل تقویٰ کا حصول اور انسان کو ان روحانی رفعتوں کے حصول کے مواقع حسب استعداد بہم پہنچانا تھا جو انسان اپنے رب سے نئی زندگی حاصل کرنے کے بعد حاصل کر سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک ہی فقرہ میں جو بڑا جامع ہے ہر موصی پر اس فریضہ کو قائم کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں :۔تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی ہو اور محرمات سے پر ہیز کرتا اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہوسچا اور صاف مسلمان ہو۔دراصل ایسے گروہ کے قیام کے لئے ہی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی بناء پڑی کہ ایک ایسی جماعت بھی قائم ہو جو ہر قسم کی قربانی دے کر اپنے نفسوں میں دین اسلام کو قائم کرتی اور دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ظاہر ہے کہ اگر کوئی موصی قرآن کریم کا علم ہی نہ رکھتا ہو تو پھر وہ اس تیسری شرط کو کیسے پورا کر سکتا ہے۔وہ اسے ہر گز پورانہیں کر سکتا اس لئے نظام وصیت کی جو بنیادی غرض ہے اس کے حصول کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر موصی قرآن کریم پڑھنا جانتا ہو اس کا ترجمہ جانتا ہو اور اس کی تفسیر کے حصول میں ہمہ تن اور ہر وقت کوشاں رہے۔