خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 559
خطبات ناصر جلد دوم ۵۵۹ خطبہ جمعہ ۱٫۴ پریل ۱۹۶۹ء قرآن کریم کی تفسیر قرآن کریم کے ترجمہ کی طرح ایسی نہیں کہ پڑھ لیا اور آ گیا اور کام ختم ہو گیا کیونکہ قرآن کریم میں تو علوم کے غیر محدود خزانے ہیں۔اسی لئے میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہر موصی کو قرآن کریم کی تفسیر آتی ہو۔دنیا میں ہمیں ایسا کوئی شخص نظر نہیں آئے گا جو قرآن کریم کی پوری تفسیر جانتا ہو کیونکہ اس کتاب مکنون سے نئے سے نئے علوم ظاہر ہوتے رہتے ہیں اور وہ انسان کے علم میں زیادتی کرتے رہتے ہیں۔قرآن کریم مختلف علوم کی طرف راہنمائی کرتا ہے بہر حال قرآن کریم کی تفسیر کو پورے طور پر حاصل کر لینا تو ممکن نہیں ہاں یہ ممکن ہے اور یہ فرض ہے ہر مسلمان کا ( خصوصاً نظامِ وصیت میں منسلک ہونے والوں کا ) کہ وہ ہمہ تن اور ہر آن علوم قرآنی کے حصول کی کوشش میں مصروف رہے۔اللہ تعالیٰ اس کی کوششوں میں برکت ڈالتا رہے۔اگر موصی قرآن کریم سے غافل ہوں اور جاہل ہوں موصی ہونے کی بنیادی شرط کو پورا نہیں کر سکتے اس لئے ہر وہ شخص جو موصی ہے اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ قرآن کریم ناظرہ جانتا ہو۔قرآن کریم کا ترجمہ جانتا ہو۔قرآن کریم کی تفسیر پڑھنے کی کوشش کرتا رہتا ہو اور اگر پہلے غفلت ہو چکی ہو تو اس غفلت کو دور کیا جائے میں سمجھتا ہوں کہ چھ مہینے کا عرصہ کافی ہے چھ مہینے کے اندر اندر ہر موصی کو اس کی استعداد کے مطابق قرآن کریم آ جانا چاہیے جو بڑی عمر کے دیہات میں رہنے والے موصی ہیں انہوں نے بے شک ایک حد تک قرآن کریم کو بزرگوں کی زبان سے سن کر سیکھا ہے اور ان میں سے بعض قرآن کریم کے احکام کو ان افراد سے بھی شاید زیادہ جانتے ہیں جنہوں نے با قاعدہ طور پر جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کی۔میں سمجھتا ہوں کہ ایسے لوگ بھی اس طرف متوجہ ہونے چاہئیں کہ وہ قرآن کریم کو پڑھنا سیکھیں قرآن کریم کا ترجمہ سیکھیں اور پھر تفسیر پڑھ پڑھ کر اپنے علم کو بڑھانے کی کوشش کریں۔کوشش خود اگر نیک نیتی کے ساتھ ہو تو کامیاب کوشش کا نتیجہ پیدا کر دیتی ہے یعنی اگر ایسی کوشش ہو جو حالاتِ زمانہ کی وجہ سے یا اللہ تعالیٰ کی بعض دیگر مصلحتوں کی وجہ سے اپنے کامیاب اختتام تک نہ پہنچ سکے تو وہ بھی خلوص نیت کی وجہ سے وہی پھل پاتی ہے جو ایسی کوشش پا رہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اپنے نیک انجام کو پہنچ گئی مثلاً جولوگ جنگ بدر ( جو اسلام کی پہلی جنگ تھی ) میں شریک ہوئے ان کی دو طرح کی کوششیں ہمیں