خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 513
خطبات ناصر جلد دوم ۵۱۳ خطبہ جمعہ ۱۴ فروری ۱۹۶۹ء اس سازش کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کر کے ان کی ناکامی کے متعلق بشارت یا وعدہ دیا ہوا ہے۔پس انسان بڑا کمزور ہے اور اللہ تعالیٰ عظیم قدرت اور عظیم شان والا ہے۔خود سوچو کہ ہمارے جیسے کمزور انسانوں کو خدا یہ کہے کہ میں تمہارے ذریعہ سے اسلام کو غالب کرنے والا ہوں۔انسان کے کان میں جب یہ آواز پہنچتی ہے تو عقل مند انسان پر اسی وقت ایک موت وارد ہو جاتی ہے۔لاشے محض ہونے کا احساس بیدار ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدرتوں کو نیم مردہ سے ظاہر کرنا چاہتا ہے یعنی ایک نیست کے ذریعہ اپنی کامل قدرتوں کو ظاہر کرنا چاہتا ہے اور انتخاب کر لیا ہے میرے اور تمہارے جیسے انسانوں کا۔پھر خدا تعالیٰ ایک یقین بخشتا ہے،عرفان عطا کرتا ہے۔تدبیریں سمجھاتا ہے، خود دعائیں بتا دیں کہ یہ دعائیں پڑھو۔میرے حضور آؤ۔اپنے پر موت وارد کرو ( پھر موت وارد کرنے کے طریقے بتا دیتا ہے ) میری رضا کو حاصل کرو ( رضا کے حصول کے لئے دعائیں اور تدابیر سکھا دیتا ہے ) ایک کمزور میں اپنی کامل قدرتوں کا جلوہ دکھا کے دنیا کو اس بات کے تسلیم کرنے پر مجبور کر دیتا ہوں کہ اس ذرہ ناچیز نے ایک روحانی انقلاب عظیم بپا کیا حالانکہ اس انقلاب عظیم کو بپا کرنے والا خود وہی ہوتا ہے اور اس کی قدرت کے جلوے ہوتے ہیں لیکن بیچ میں ایک پردہ لے آتا ہے۔خدا کرے کہ وہ ذرہ نا چیز ہم ہی بن جائیں۔اپنی غفلتوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے کوئی اور اس کا وہ ذرہ نا چیز نہ بنے بلکہ ہمیں ہی اس کی کامل رحمت، اس کا کامل فضل ، اس کی کامل رضا حاصل ہو اور اس کی اس تقدیر اور حکم کا اجرا ہمارے ذریعہ سے ہو جو آسمانوں پر ہو چکا اور جس کا زمین پر اجرا ہونے والا ہے۔یعنی توحید حقیقی کا قیام۔اسلام کا عالمگیر غلبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل فتح۔( روزنامه الفضل ربوه ۱۹ / مارچ ۱۹۶۹ ء صفحہ ۲ تا ۷ )