خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 508 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 508

خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۱۴ فروری ۱۹۶۹ء جہاں ہم نے تسبیح اور تحمید کرنی ہے وہاں حصول صبر کے لئے بھی دعا کریں۔اس دعا میں بڑی گہرائی اور بڑی وسعت ہے کہ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ شَيْتُ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الكفرين ان آیات میں جو میں نے بعد میں دوستوں کے سامنے رکھی ہیں اللہ تعالیٰ نے صبر کے مختلف معانی اور اس کی حکمتیں بیان کی ہیں "ربنا افرغ عَلَيْنَا صَبرًا۔۔۔۔الخ ، دعائیہ الفاظ میں ہے ہمیں اس طرف متوجہ کرنے کے لئے اور ہمارے دل میں ایک تڑپ پیدا کرنے کے لئے کہ ہمیں صبر کے حصول کے لئے دعا کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ سورہ نحل ( آیت : ۱۲۸) میں فرماتا ہے:۔واصبر صبر کرو لیکن اللہ کی توفیق کے بغیر تم صبر نہیں کر سکو گے۔وَ مَاصَبُرُكَ إِلَّا بِاللهِ “ اللہ کی مدد کے بغیر تم صبر کر نہیں سکتے اس واسطے جب ہمارے اس حکم کی تعمیل کرنا چاہو کہ صبر سے کام لو تو تمہارے لئے ضروری ہو کہ خدا کے حضور جھکو کہ اے خدا! تُو نے ہمیں ( ان تمام معانی میں جن کا ذکر میں نے ابھی کیا ہے ) صبر کرنے کا حکم دیا ہے لیکن ہم کمزور بندے جانتے ہیں اور تو بھی جانتا ہے کہ اپنے طور پر صبر کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں اس لئے تو ہماری مددکر۔وَ مَا صَبَرُكَ إِلَّا بِاللهِ “ کے تقاضا کے مدنظر اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھا دی کہ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا۔۔۔۔الخ اے ہمارے رب ! ہمیں کمال صبر عطا کر کیونکہ خود ہی دوسری جگہ فرما یا تھا۔وَ مَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللهِ اللہ کی مدد کے بغیر صبر نہیں ہوسکتا۔صبر کے حصول کے لئے خدا تعالیٰ کی مدد کو اگر ہم اپنے الفاظ میں حاصل کرنے کی کوشش کریں تو الفاظ کے نقص کی وجہ سے شاید اس کو پا نہ سکیں۔اس لئے ہمیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی دعا کے ذریعہ صبر کو حاصل کرنے کی کوشش کریں اور چونکہ خدا تعالیٰ کے کلام میں جو دعائیں ہوتی ہیں وہ کامل ہوتی ہیں اس لئے اس کامل دعا کے نتیجہ میں اگر ہم خلوص نیت کے ساتھ اور عاجزی اور تفرع کے ساتھ اس دعا کو کریں اس حقیقت اور ان معانی کو سمجھتے ہوئے جو اس میں بیان کئے گئے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے