خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 504
خطبات ناصر جلد دوم ۵۰۴ خطبه جمعه ۱۴ / فروری ۱۹۶۹ء اور اسلام کی اشاعت میں اور اسلام کے حق میں جو جدو جہد کی جائے اس کے وہ پہلو جو اخفا میں رکھے جانے چاہئیں ہم انہیں اخفا میں رکھیں، ان کو ظاہر نہ کریں اور تُو نے ہماری زبان پر جو پابندیاں لگائی ہیں ہم صبر کے ساتھ ان پابندیوں کو اُٹھانے والے ہوں۔صبر کے چھٹے معنی ہیں برداشت کے ساتھ انتظار کرنا ، بے صبری نہ دکھانا۔سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ دعا کرتے رہا کرو کہ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبُرا اے ہمارے رب! ہمیں کمال صبر عطا کر۔تو نے ہم سے بہت سے وعدے کئے ہیں جو اپنے وقت پر پورے ہوں گے ایسا نہ ہو کہ ہمارے نفس جلدی کی خواہش کریں اور وہ یقین جو ایک مومن کے دل میں اپنے رب کے وعدوں پر ہونا چاہیے وہ یقین قائم نہ رہے اور ہم بے صبری دکھا ئیں اور پھر بے صبری کے نتیجہ میں ایسے بول بول دیں یا ایسے اعمال کر لیں جو تجھے ناراض کر دیں اور ہم تیری بشارتوں سے محروم ہو جائیں۔پھر تو کوئی اور قوم یا کوئی اور نسل پیدا کرے جو تیرے وعدوں کی حامل ہو۔جن کے حق میں تیری بشارتیں پوری ہوں۔اے خدا! ایسا نہ ہو بلکہ ہمیں صبر کے ساتھ انتظار کرنے کی توفیق عطا کر اور ہمیں اس میں بھی کمال بخش تاہم بے صبری کی مضرات سے بچنے والے ہوں اور صبر کے ساتھ تیرے وعدوں کا انتظار کرنے والے ہوں کیونکہ تو اپنے وعدوں کا سچا ہے تو نے آسمانوں پر یہ فیصلہ کیا کہ اسلام کو تمام دنیا میں غالب کرے گا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عظمت سب انسانوں کے دلوں میں بٹھائے گا۔اس آسمانی فیصلے کا اس دنیا میں اجراء تو ضرور ہو گا لیکن اپنے وقت پر ہوگا۔اس کے لئے ہمارے امتحان لئے جائیں گے اس کے لئے ہم سے مجاہدے طلب کئے جائیں گے۔اس کے لئے ہمیں مصائب میں سے گزرنا پڑے گا۔اس کے لئے ہمیں ان منصوبوں اور سازشوں کے خلاف تدابیر کرنی پڑیں گی جو اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کی جارہی ہیں۔اے خدا! تو ہمیں ہر حالت میں اور ہر معنی میں صبر کی توفیق عطا کر رَبَّنَا افْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ ثَبِّتْ أَقْدَامَنَا صبر کے جو مختلف معنی مفردات راغب میں بیان کئے ہیں وہ دراصل مختلف آیات قرآنی کی تفسیر ہی ہیں اور جب ہم قرآن کریم پر غور کرتے ہیں تو ان معانی کو خود قرآن کریم میں پاتے ہیں جیسا کہ سورۃ یونس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَاصْبِرُ حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَكِمِينَ (يونس:١١٠)