خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 505
خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۱۴ فروری ۱۹۶۹ء اس میں پہلے معنی جو شریعت کے احکام پر سختی سے کاربند رہنے کے ہیں۔اس کی طرف اشارہ ہے کہ جو وحی تمہاری طرف کی گئی ہے۔قرآن کریم کی شریعت نے جو احکام تمہارے سامنے رکھے ہیں ان کی اتباع کرو۔واصبر “ اور پورے مجاہدہ کے ساتھ ، پورے زور کے ساتھ اپنے نفسوں کو احکام شریعت کا جو دائرہ ہے اس کے اندر باندھے رکھو اور قید رکھو۔بے قیدی کی زندگی نہ گزارو۔یعنی اتباع وحی محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں صبر سے کام لو۔یعنی پورے طور پر اپنے نفسوں پر زور دے کر شریعت کی پابندی کرو اور شریعت کا جو اپنی گردن پر رکھو اور بے قید زندگی گزار نے کی کوشش نہ کرو۔وَاصْبِرُ حَتَّى يَحْكُمَ اللہ اور اس میں چھٹے معنی بھی آجاتے ہیں جو میں نے ابھی بیان کئے ہیں کہ تم صبر کے ساتھ انتظار کرو۔ہوگا وہی جو خدا نے چاہا اور پسند کیا۔ہوگا وہی جس کا اللہ نے فیصلہ کر دیا ہے لیکن ہو گا وہ اپنے وقت پر۔اس واسطے بے صبری نہ دکھاؤ۔صبر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کرے وَهُوَ خَيْرُ الْحَکمین “ اور بہترین فیصلہ وہی کیا کرتا ہے۔دنیا فیصلے کرتی اور اس کے فیصلے ٹوٹ جاتے ہیں۔دنیا کامیابیوں کی خواہش رکھتی اور ناکامیوں اور نامرادیوں کا منہ دیکھتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا فیصلہ کر دیتا ہے تو وہ خَيْرُ الحکمین“ جو فیصلہ کرتا ہے وہی ہوتا ہے لیکن ہوتا اس وقت ہے جو اس فیصلے کے ہونے کے لئے مقدر ہو۔تمہیں بشارتیں دی گئی ہیں۔اپنے وقت پر پوری ہوں گی لیکن تمہیں صبر سے انتظار کرنا پڑے گا۔تمہیں صبر کے ساتھ امتحانات میں سے گزرنا پڑے گا۔مصائب کو برداشت کرنا پڑے گا۔مخالف کے منصوبوں اور سازشوں کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ہوائے نفس سے بچنا پڑے گا۔نفس کو مارنا پڑے گا خدا کے لئے موت کو اختیار کرنا پڑے گا تا تمہیں ایک نئی زندگی ملے اور احکام شریعت پر سختی کے ساتھ پابند رہنا پڑے گا۔یہ کرنا پڑے گا اگر تم نے ان بشارتوں کا وارث اور حامل بننا ہے تو وَاصْبِرُ حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ صبر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہو جائے اور فیصلے کا اجرا ہو جائے اور وہ خَيْرُ الْحَكِمِينَ ہے اس کے فیصلوں کے وقت کی تعیین وہی جانتا ہے اور اس کے فیصلے حق و حکمت سے پُر ہوتے ہیں اور بھلائی سے معمور ہوتے ہیں۔