خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 502 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 502

خطبات ناصر جلد دوم ۵۰۲ خطبہ جمعہ ۱۴ فروری ۱۹۶۹ء شریعت کے کامل اور سچے متبع بن جائیں اور وہ راہیں جو تیری ناراضگی کی طرف لے جانے والی ہیں ان راہوں کو اپنے نفس پر گلی طور پر مسدود کر لیں۔ہوائے نفس کا شکار نہ بنیں اور یہ اس لئے نہ کریں کہ ہمیں دنیا کے اموال ملیں اور ہمارے دل میں اس دنیا کی لذتوں کی جو خواہش ہے وہ پوری ہو بلکہ یہ اس لئے کریں کہ ہمیں تیری رضا مل جائے۔اللہ تعالیٰ نے فرما یا افرغ عَلَيْنَا صَبْرًا کی یہ دعا کرتے رہا کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق دے کہ اوامر پر کار بند رہو اور نواہی سے بچتے رہو کہ عمل کی توفیق اسی وقت ملتی ہے جب اللہ تعالیٰ دیتا ہے اور دعا سے اسے حاصل کرنا چاہیے۔صبر کے ایک معنی یہ ہیں (اگر اس پہلے معانی کو دو کہہ دیں یعنی شریعت کے احکام کی پابندی اور نواہی سے بچنا تو ) اس کے تیسرے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو مصائب آئیں ان سے انسان گھبرائے نہیں بلکہ انہیں بشاشت کے ساتھ برداشت کرے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب تم میری شریعت پر عمل کرو گے اور منکر سے بچو گے۔جب تم میری بتائی ہوئی تعلیم کی دنیا میں اشاعت کرو گے۔جب وہ دنیا جو نفس پرستی اور عیش پرستی میں محو ہے ان کو ان کی برائیوں سے روکو گے تو یقینا وہ تمہارے خلاف ہر قسم کے منصوبے کریں گے۔سازشیں کریں گے ان کے شر سے بچنے کے لئے مجھ سے دعا کرو۔آفرغ عَلَيْنَا صَبُرا کہ اے ہمارے رب! ہم تیرے منہ کی خاطر تیرے حکم پر کار بند ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور تیری ناراضگی کے خوف سے تیری بتائی ہوئی نواہی سے بچتے ہیں لیکن ہمیں یہ اندھی دنیا ستانے لگ جاتی ہے۔ہمیں دکھ دینے لگ جاتی ہے یہ نہیں چاہتی کہ تیرا بول بالا ہو۔تیری شریعت قائم ہو۔یہ اندھی دنیا نہیں چاہتی کہ اسلام کی جو مسرتیں ہیں وہ انہیں ملیں کیونکہ اس طرح انہیں دنیا کی مسرتیں اور لذتیں اور عیش چھوڑنے پڑتے ہیں۔ہم تجھ سے یہ التجا کرتے ہیں کہ اگر اس راہ میں مصائب آئیں جیسا کہ الہی جماعتوں پر آیا کرتے ہیں تو پھر ہمیں اپنے فضل سے یہ توفیق دینا کہ ہم ان مصائب کے مقابلہ میں صبر سے کام لیں اور ہمارے دل گھبرا نہ جائیں اور ہم ان مصائب کے وقت ایسا نمونہ دکھا ئیں کہ دنیا پر ان کا اچھا اثر ہو اور دنیا یہ سمجھنے لگے کہ جب خدا کے اتنے کمزور بندے ہر قسم کے مصائب کو برداشت کر رہے ہیں تو ضرور کوئی بات ہے ان کی توجہ اس طرف پھرے کہ یہ تہی دست اور قوتوں