خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 466 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 466

خطبات ناصر جلد دوم ۴۶۶ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۶۹ء اندھیروں کی آمیزش ہوتی ہے خدا تعالیٰ کے غضب کو مول لینے والی نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس میں فرمایا وَ يَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ (یونس: ۱۰۱) یعنی جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اور اپنی عقل کو اس نور کی روشنی کی تأثیر سے متاثر نہیں کرتے جو قرآن کریم کے ذریعہ نازل کی گئی ہے ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو جاتا ہے۔غرض ایک مرتی نے اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچانا ہے اور دنیا کو بھی۔بنی نوع انسان کو بھی اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچانا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ وہ اس نور سے وافر حصہ لینے کی کوشش کرے جو قرآن کریم عقل کو دیتا ہے اور دعاؤں میں مشغول رہے۔وہ اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ یہ دعا مانگتا ر ہے کہ اسے بھی اور دنیا کو بھی اپنی کم عقلی اور اندھیروں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا غضب نہ ملے بلکہ اللہ تعالیٰ اسے بھی عقل دے اور قرآنی انوار عطا کرے اور دنیا کو بھی سمجھ دے اور اسے قرآنی انوار دیکھنے کی توفیق عطا کرے تا کہ وہ اس کے غضب کی بجائے اس کی محبت حاصل کرنے والے ہوں۔مربی کا ایک بڑا کام جماعتی اتحاد اور جماعتی بشاشت کو قائم رکھنا ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جو نور میں عقل میں پیدا کرتا ہوں اسی کے نتیجہ میں قومی جہتی قائم رکھی جاسکتی ہے جیسا کہ سورہ حشر میں فرمایا۔تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْقِلُونَ - (الحشر : ۱۵) یہاں ویسے تو مضمون اور ہے لیکن ایک بنیادی حقیقت بھی بیان کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم انہیں ایک قوم خیال کرتے ہو حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں اور یہ اس لئے ہے کہ قومی اتحاد اور قوم میں ایک مقصد کے حصول کے لئے بشاشت کا پیدا ہونا اس عقل کے ذریعہ سے ممکن ہے جسے خدا تعالیٰ کے قرآن اور اس احسن الحدیث کی روشنی عطا ہو جو اس نے ہمارے لئے نازل کی ہے۔اگر عقل کو انوار قرآنی حاصل نہیں تو پھر عقل اس بنیادی مسئلہ کو بھی سمجھنے سے قاصر رہ جاتی ہے کہ یکجہتی اور اخوت اور اتحاد کے بغیر قومی ترقی اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل نہیں کیا جاسکتا۔پس ایک مرتبی کا یہ کام ہے کہ وہ کوشش کر کے قرآنی نور سے اپنی عقل کو منور کرے اور قرآن کریم نے جو اصول اور جو ہدایتیں اور جو تعلیم قوم میں بشاشت پیدا کرنے ، محبت پیدا کرنے