خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 467 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 467

خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۶۹ء اور اخوت پیدا کرنے کے لئے دی ہیں انہیں سیکھے اور پھر ان کا استعمال کرے کیونکہ اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ جماعت میں بشاشت پیدا کرے۔ہر احمدی کے دل میں یہ یقین ہو کہ میں خدا تعالی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جماعت احمدیہ میں داخل ہوا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے بے شمار ایسے فضل مجھ پر ہیں جو ان لوگوں پر نہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک نہیں کہا اور اس وجہ سے اسے خدا تعالیٰ کا ایک شکر گزار بندہ اپنی عقل سے کام لینے والا بندہ اور قرآنی انوار سے نور لینے والا بندہ بن کر زندگی کے دن گزار نے چاہئیں۔ج میں نے شروع میں اشارہ کیا تھا کہ قرآن کریم نے یہ دعوی کیا ہے کہ میرا نزول اس لئے بھی ہے کہ میں گداز دل پیدا کروں جیسا کہ سورۃ الزمر کی چوبیسویں آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اللهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَبًا مُتَشَابِهَا مَثَانِي تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلى ذِكرِ اللهِ ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ یعنی ہم نے اس احسن الحدیث کو، اس بہترین ہدایت کو یعنی اس قرآن کریم کو اس کتاب کو جو متشابہہ بھی ہے اور مثانی بھی ہے یعنی تمام صداقتوں کو اپنے اندر جمع بھی رکھتی ہے اور جس جس پہلی کتاب کی صداقت اس نے لی ہے اس سے وہ مشابہت رکھتی ہے اور اس کے علاوہ دیگر نہایت اعلیٰ مضامین اس کے اندر پائے جاتے ہیں جو پہلی کتب سماوی میں نہیں پائے جاتے تھے اور اس کامل اور مکمل کتاب کے نزول کی ایک غرض یہ ہے کہ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُدُودُ الَّذِينَ يَخْشَونَ رَبَّهُمُ الخ وہ لوگ جو اپنی فطری خشیت اللہ سے کام لیتے ہیں وہ حقیقی معنی میں قرآن کریم کے فیوض اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے گداز دل بن جائیں اور ان کے دل اللہ تعالیٰ کی خشیت سے اور بنی نوع کی ہمدردی سے گداز ہو جائیں۔فرما یا ذلِكَ هُدَى اللہ یہ قرآن کریم کی ہدایت ہے لیکن کوئی شخص اپنے زور سے اسے حاصل نہیں کر سکتا يَهْدِى بِه مَنْ يَشَاءُ دعا کرو کہ اس حسین ہدایت کو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں حاصل کرنے والے بن جاؤ اور اس کی برکتوں سے حصہ لینے والے بن جاؤ۔قرآن کریم کی ہر آیت اپنے اندر بڑے وسیع معانی رکھتی ہے لیکن اس وقت میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ قرآن کریم کا نزول اس لئے بھی