خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 459 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 459

خطبات ناصر جلد دوم ۴۵۹ خطبہ جمعہ ۳/ جنوری ۱۹۶۹ء جو عیدانسان کے اوپر ڈالتی ہے۔عام گھروں میں جو عید منائی جاتی ہے وہ بھی بہت سی نئی ذمہ داریاں لے کر آتی ہے یہ تو وہ عید ہے جس میں ہم نے پیدا کرنے والے اللہ کے حسن واحسان کے (اس کی بشارتوں کے مطابق ) پہلے سے زیادہ جلوے دیکھنے ہیں۔پس پہلے سے بڑھ کر پہلے سے زیادہ برکتوں والی ، پہلے سے زیادہ انعامات کے وعدوں کے ساتھ اور بشارتوں کے ساتھ آنے والی ایک نئی عید میں ہم داخل ہو رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس سال کو بھی ہمارے لئے حقیقی معنوں میں عید بنائے اور اللہ تعالیٰ پہلے سے زیادہ نعمت اور فضل سے ہمیں نوازے اور اللہ تعالیٰ پہلے سے بڑھ کر ہمارا تقویٰ ہمیں دے اور ہم اس کی نگاہ میں معزز ہو جائیں۔اس کی توفیق کے بغیر تو کچھ ہو نہیں سکتا۔اے ہمارے رب ! ہم جانتے ہیں اور ہم علی وجہ البصیرت اس بات کا تیرے حضور اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے اندر کوئی خوبی نہیں ہے کوئی طاقت نہیں ہے کوئی قوت نہیں ہے کوئی حقیقی جذبہ فدائیت نہیں ہے ہر چیز ہم نے تجھ سے لے کر تجھ سے ہی توفیق پا کر تیرے حضور پیش کرنی ہے۔پہلے سے زیادہ ہمیں توفیق عطا کر اور جو تیری توفیق سے ہم تیرے حضور پیش کریں وہ پہلے سے زیادہ ہو اور تو اسے قبول کر اور پہلے سے زیادہ نعمتوں سے ہمیں نواز۔روزنامه الفضل ربوه ۲۹/جنوری ۱۹۶۹ء صفحه ۲ تا ۵ )