خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 458
خطبات ناصر جلد دوم ۴۵۸ خطبہ جمعہ ۳/ جنوری ۱۹۶۹ء ماحول کا ان پر اثر تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سختی کے ساتھ ان کی تربیت کرنے کے لئے ایک جلسہ اس لئے ملتوی کرنا پڑا کہ تمہیں یہاں خدا تعالیٰ کی نعمتوں کے حصول اور ان پر حمد پڑھنے کے لئے اکٹھا کیا جاتا تھا لیکن اس اُلفت کا تم نے چونکہ نظارہ پیش نہیں کیا اس لئے میں جلسہ نہیں کرتا تا کہ تمہیں اچھی طرح سبق مل جائے۔پھر بڑی دعاؤں کے ساتھ ، بڑی توجہ کے ساتھ جماعت کی تربیت کی اور وہ درخت مضبوطی کے ساتھ اپنی جڑوں پر کھڑا ہو گیا۔آج ہم اس کا پھل کھا رہے ہیں۔اس درخت کو لگانے والا ، اس درخت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی برکتوں سے سیراب کرنے والا وجود تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وجو دتھا ہر قسم کے خطرے سے محفوظ کرنے کے لئے آپ نے اپنا وقت بھی خرچ کیا۔اپنا سب کچھ لگا دیا ہر وقت دعاؤں میں لگے رہے اللہ تعالیٰ نے انہیں بشارتیں دیں پھر ایک جماعت پیدا ہو گئی جس کی اخوت والفت کے نظارے ہمیں نظر آتے ہیں لیکن محبت اور اخوت اور اُلفت کے بندھنوں میں بندھے ہونے کا بہترین مظاہرہ انسان جلسہ سالانہ کے ایام میں دیکھتا ہے۔اتنا بڑا اجتماع ہو اور اس قدرسکون اور خلوص اور پیار میرے علم میں تو بچوں کی بھی کوئی لڑائی نہیں ہوئی جو بعض دفعہ نا سمجھی کی عمر میں ہو جاتی ہے۔کتنا بڑا فضل اور کتنی بڑی رحمتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس جماعت پر خصوصاً ایام جلسہ میں نازل کیں۔خالی یہ نہیں بلکہ جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا تھا ہمیں یہ وعدہ بھی دیا گیا ہے کہ ہر نیا سال جو تم پر آئے گا وہ تمہیں میرے زیادہ قریب کر دے گا۔تم پہلے سے بھی زیادہ میری نعمتوں کے وارث ہو جاؤ گے اس لئے کہ ہر نیا سال جو آئے گا وہ نئی ذمہ داریاں لے کے آئے گا اور پہلے سے زیادہ قربانیوں کا مطالبہ کر رہا ہو گا۔تم اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا میں تم پر اپنے انعامات کرتا چلا جاؤں گا۔کتنا عظیم وعدہ ہے کتنی عظیم بشارت ہے جو ہمیں دی گئی ہے ہم میں سے کون بد بخت ہوگا جو خدا تعالیٰ کی ان نعمتوں کو ٹھکرا دے اور ان وعدوں کو بھول جائے اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی کوشش نہ کرے۔ہم ایک عید سے نکل کر ایک نئی عید کے زمانہ میں داخل ہو رہے ہیں اس عید کے لئے ہم نے تیاری کرنی ہے جس طرح دنیوی عید کے لئے ہم تیاری کرتے ہیں اس عید کے لئے ہم نے ان تمام ذمہ داریوں کو نبھانا ہے جو ہم پر ڈالی گئی ہیں عید کی وجہ سے اور ان تمام مطالبات کو پورا کرنا ہے