خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 457 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 457

خطبات ناصر جلد دوم ۴۵۷ خطبہ جمعہ ۳/ جنوری ۱۹۶۹ء مِنْهَا - (ال عمران : ۱۰۴) یہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ جس قدرت کا ملہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک جان کر دیا ہے اور بھائی بھائی بنادیا ہے اس کی ناقدری نہ کرنا جس رہی سے اس نے تمہیں باندھا ہے اس رشتی کو کبھی نہ چھوڑنا اور پراگندہ مت ہو جانا۔وَ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمُ اَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمُ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے اللہ کا فضل ہے جو اس نے تم پر کیا دنیا ایذا رسانی کی دنیا تھی۔بھائی بھائی کا دشمن تھا بھائیوں سے زیادہ با ہمی الفت واخوت پیدا کر دی۔آج بھی ساری دنیا میں ہمیں یہی نظر آتا ہے بھائی بھائی کا دشمن ، خاندان خاندان کا دشمن، علاقہ علاقے کا دشمن اس رسی کو توڑ کے محبت کی اس قید و بند سے آزاد ہو گئے اس نعمت خداوندی کو ٹھکرا دیا جس کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس رسی کی قید سے باہر نکلو گے اعداء تم دشمن بن جاؤ گے اور جو اُلفت خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمہارے اندر پیدا کی تھی اور تمہیں ایک جان کر دیا تھا اس نعمت خداوندی سے تم محروم ہو جاؤ گے اور جس طرح اس سے قبل آگ کے گڑھے کے کنارے پر تم کھڑے ہوئے تھے اور خدا کے فضل نے تمہیں اس سے بچا لیا تھا پھر تم وہیں جا کے کھڑے ہو جاؤ گے اور آگ کے اندر گرنے کا بڑا خطرہ پیدا ہو جائے گا سوائے اس کے کہ تو بہ کے ذریعہ پھر تم خدا کی حفاظت میں آجاؤ تو یہ حقیقت کہ کوئی قوم یا جماعت اس طرح اُلفت کے اور محبت کے بندھنوں میں باندھی جائے۔اللہ تعالیٰ کی بڑی ہی نعمت ہے جیسے کہ قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اور اس نعمت کو جماعت پر نازل ہوتے ہم نے جلسہ سالانہ پر دیکھا ایک لاکھ کے قریب مردوزن کا اجتماع ہوا اور نہ کوئی لڑائی ہو نہ جھگڑا ، نہ کوئی شور ہو نہ شرابہ یہ چند دن اس طرح سکون اور محبت کی فضا میں گزر گئے کہ ہمیں تو گزرتے ہوئے پتہ بھی نہ لگا۔جب وہ گزر گئے تو ہم نے کہا مہمان رخصت ہو گئے اُداسیاں باقی رہ گئیں پس جہاں ایک لاکھ آدمی کا اجتماع ہو اور آپس میں کوئی جھگڑا نہ ہو یہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے بغیر ممکن ہی نہیں جہاں پچاس آدمی کسی اور جگہ اکٹھے ہو جاتے ہیں آپس میں لڑ پڑتے ہیں اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بڑے مجاہدے بڑی دعائیں کرنی پڑیں جس ماحول میں سے احمدی نکل کر جماعت میں داخل ہوئے تھے جب تک ان کی پوری تربیت نہیں ہوئی