خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 33
خطبات ناصر جلد دوم لئے بھی مقدر نہیں۔۳۳ خطبہ جمعہ ۲ فروری ۱۹۶۸ء اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کی ان آیات میں جو نفاق اور منافقوں کے متعلق ہیں بڑی تفصیل سے ان کی عادتوں اور طریقوں پر بحث کی ہے قرآن کریم نے دوسری جگہ ان آیات کے مضامین کو اور وضاحت کے ساتھ کھولا ہے ہمیں جس بنیادی چیز کی طرف متوجہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ منافق مصلح کی شکل میں ہمارے سامنے آتا ہے یعنی اعلان یہ ہوتا ہے کہ میں جماعت میں اصلاح کرنا چاہتا ہوں۔مقصد یہ ہوتا ہے کہ جماعت میں فساد پیدا کیا جائے اس واسطے بہت ہی زیادہ ہشیار اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے اس کے لئے جو بنیادی تعلیم ہمیں دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ خلیفہ وقت یا امام وقت یا اگر رسول زندہ ہو تو رسول کے ساتھ چمٹ جاؤ۔اس کے ساتھ لگے رہو تب تم نفاق کے حملوں سے بیچ جاؤ گے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پہلے مخاطب تھے قرآن کریم کے اور ابدی زندگی آپ کو عطا ہوئی تو سارا زور اس پر ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ساتھ چمٹوروحانی طور پر کیونکہ آپ قیامت تک کے لئے زندہ ہیں اس لئے حقیقت یہی ہے کہ اب بھی یہی حکم ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ساتھ آ کے چمٹ جاؤ اور آپ کو اُسوہ بناؤ منافق کے شر سے بچ جاؤ گے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب اللہ تعالیٰ دنیا میں پیدا کرتا رہا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سب سے بڑے نائب اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ محبوب روحانی فرزند کی شکل میں دنیا کی طرف بھیجا اور پھر ایک سلسلہ خلافت دنیا میں قائم کیا۔اصل چیز تو محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں اصلی زندگی تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہے نفاق اور کفر سے بچنے کا اصل ذریعہ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار اور محبت ہے اور پھر ان سے جن کے متعلق خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے کہ ان کی اطاعت کرو اور ان سے پیار کا تعلق قائم کرو۔جو طریق منافق اختیار کرتا ہے اس پر قرآن کریم نے بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔مثلاً ایک طریق اس کا یہ بتایا ہے کہ وہ یہ اعتراض کرتا ہے کہ هُوَ اذن کہ یہ تو کان ہیں لوگ آتے ہیں کان بھر جاتے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( نعوذ باللہ ) اور غلط فیصلے ان سے ہو جاتے ہیں۔-