خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 34
خطبات ناصر جلد دوم ۳۴ خطبہ جمعہ ۲ فروری ۱۹۶۸ء 6 وہ دن اور آج کا دن اور پھر قیامت تک یہی ہوتا رہے گا۔جو آپ کے عاجز اور ناچیز بندے آپ کے نام پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کھڑے کئے جاتے ہیں بطور نائب کے، بطور خادم کے، بطور پیار کرنے والے کے ، بطور اس ذرہ ناچیز کے جسے خدا تعالیٰ اپنی دو انگلیوں میں لے اور اعلان کرے کہ اس ذرہ کے ذریعہ میں اپنی قدرت کو ظاہر کرنا چاہتا ہوں ان پر یہ اعتراض ہوتے رہیں گے ہو رہے ہیں اور ہوتے چلے جائیں گے۔تو یہ ایک بڑی واضح علامت اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے منافق کی، کہ کہتے ہیں کہ کان بھرنے والے کان بھر دیتے ہیں اور یہ فیصلہ کر دیتا ہے بغیر سوچے سمجھے حالانکہ جسے اللہ تعالیٰ اس مقام پر کھڑا کرتا ہے اسے فراست بھی عطا کرتا ہے اور وہ فراست بہر حال عام مومن کی فراست سے زیادہ ہی ہوتی ہے عام مومن کی فراست سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرایا ہے۔مومن کو اللہ تعالیٰ نے بڑی فراست دی ہوتی ہے تو جو مقام ایک مومن کا بتایا گیا ہے تم وہ مقام بھی خلیفہ وقت کو دینے کے لئے تیار نہیں اور کہتے ہو ھو اذن خلیفہ وقت کی کیا حیثیت ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں؟ جب تمہارے بڑوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں چھوڑا تو تم مجھ پر یا مجھ سے پہلوں پر یا بعد میں آنے والوں پر اس طرح پر اعتراض کرو تو کیا حقیقت ہے اس اعتراض کی؟ اللہ تعالیٰ نے وہاں یہ نہیں جواب دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذن نہیں ہیں بلکہ ان کے اس قول کو صحیح تسلیم کیا ہے کہ ہاں اُذن ہیں سنتے ہیں باتیں ، مگر اس کے بعد جو فیصلہ کرتے ہیں وہ تمہاری خیر کا ہوتا ہے اور تمہارے لئے شر کا فیصلہ نہیں ہوتا اور سننا ضروری ہے کیونکہ ہر جگہ کی ہر قسم کی بات پہنچنی چاہیے ورنہ صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچا جا سکتا یعنی ہر جگہ سے بات کا کانوں تک پہنچنے سے منافق کا یہ نتیجہ نکالنا کہ اس سے شر پیدا ہو گا یہ احمقانہ بات ہے کیونکہ خدا کا کوئی بندہ بغیر صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے کوئی کام نہیں کرتا اللہ تعالیٰ خود اس کی رہنمائی کرتا ہے اور صحیح نتیجہ پر وہ پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اذن تو ہے لیکن اُذُنُ خَیرِ لکھ تمہاری بھلائی کے لئے کان ہے جو فیصلہ کرے گا باتیں سننے کے بعد وہ تمہارے لئے بہتر ہوگا۔پھر بدظنی کا مادہ بھی منافق میں ہوتا ہے کہہ دیتے ہیں کہ جی فلاں بات فلاں نے پہنچادی۔