خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 425 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 425

خطبات ناصر جلد دوم ۴۲۵ خطبه جمعه ۱۳ / دسمبر ۱۹۶۸ء فرماتا ہے اور اپنی تائید اور نصرت کے نشانوں سے دوسری مخلوقات سے انہیں ممتاز کرتا ہے ( یعنی ان کے لئے ایک فرقان بنا دیتا ہے ) یہ بھی ایسا نشان ہے جو قیامت تک اُمت محمدیہ ،، میں قائم رہے گا۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ قرآن کریم میں بہت بڑی روحانی تاثیرات پائی جاتی ہیں اور تم اپنی زندگیوں کو قرآن کریم کی ہدایات کے مطابق ڈھالو اور ان احکام کے مطابق اپنی زندگی کے دن گزار و جو قرآن نے بتائے ہیں اس کے نتیجہ میں ایک طرف تو تمہاری عقل میں جلا پیدا ہو جائے گا اور دوسری طرف جتنا جتنا تقویٰ تم حاصل کرو گے جس قدر مقام قرب کو تم پالو گے اسی کے مطابق اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے رموز تم پر کھولے گا اور تمہیں اپنا مقرب بنا لے گا وہ ایک امتیازی نشان تمہیں دے گا یہ ممتاز مقام ایک مسلمان کی زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھتا ہے۔ایک مسلمان کی ہر حرکت اور سکون میں ہمیں ایک امتیاز نظر آتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہر حرکت اور سکون کے متعلق ہماری راہ نمائی فرمائی ہے مثلاً آپ نماز کے لئے آ رہے ہیں نماز کھڑی ہو گئی ہے اور آپ نے خیال کیا کہ پہلی رکعت آپ کو ملتی ہے یا نہیں اور آپ دوڑنا چاہتے ہیں اس وقت اسلام آپ کے کان میں یہ آواز دیتا ہے اَلْوَقَارَ الْوَقَار تم اپنے وقار کا خیال رکھو یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جو میں نے دی ہے ورنہ ہر حرکت جو ہم کرتے ہیں اس کے متعلق ہمیں ایک ہدایت دی گئی ہے اس کے متعلق ہمیں ایک نور عطا کیا گیا ہے اسی طرح ہمارا سکون ہے یعنی حرکت کا نہ ہونا بعض دفعہ ہمیں حرکت نہیں کرنی ہوتی مثلاً مراقبہ ہے محاسبہ نفس ہے یہ گو ویسے بھی ہوسکتا ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ انسان خالی الذہن ہو کر اور ہر قسم کے خیالات سے بچ کر تنہائی کے مقام پر جا کر ہی ظاہری سکون کی حالت میں ہوتا ہے اس کے اندر تو اپنی عاجزی اور خدا تعالیٰ کے غضب کے خوف کی وجہ سے اور اس کی محبت کے پالینے کے لئے ایک طوفان بپا ہوتا ہے لیکن دنیوی نقطۂ نگاہ سے ہم اسے سکون کی حالت کہہ سکتے ہیں پھر انسان بولتا ہے بولنے یعنی نطق کے متعلق اسلام نے ہمیں اتنی ہدا یتیں دی ہیں کہ پہلی شریعتیں تو شاید اس کے ہزارویں حصہ تک بھی نہیں پہنچیں۔پھر ایک مسلمان جب خاموشی اختیار کرتا ہے یا جب اسے خاموشی اختیار کرنی چاہیے اس وقت وہ