خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 424 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 424

خطبات ناصر جلد دوم ۴۲۴ خطبه جمعه ۱۳ / دسمبر ۱۹۶۸ء درمیان بڑے نمایاں طور پر ایک امتیاز پیدا کرتی ہے ایک سمجھدار کو سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ دکھا دیتی ہے۔اسی طرح جہاں تک اعمال کا تعلق ہے قرآنی تعلیم بتاتی ہے کہ کس قسم کے اعمال اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں صالح اور حمید ہیں اور کس قسم کے اعمال اور کون سے اعمال خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ناپسندیدہ ہیں اور چونکہ یہ ایک کامل اور مکمل ہدایت نامہ ہے اس لئے یہ کتاب بڑی تا شیروں کی مالک ہے اس کتاب سے پہلے بھی شریعتیں نازل ہوتی رہی ہیں لیکن اضافی طور پر قرآن کریم کے مقابلہ میں وہ ناقص تھیں۔جب انسان اپنی روحانی اور اخلاقی ترقی میں انتہائی مدارج تک پہنچ گیا اور انسان کی بحیثیت انسان استعداد روحانی اس قابل ہو گئی کہ وہ کامل شریعت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا سکے تو اس وقت قرآن کریم کا نزول ہوا اور اس نے ہر قسم کے غلط اور صحیح ، سیچ اور جھوٹ ، اعمالِ صالحہ اور ناپسندیدہ اعمال کے درمیان ایک فرق اور امتیاز پیدا کیا۔پہلی کتب گو اپنے زمانہ کے لحاظ۔کامل کتا بیں تھیں لیکن ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جو حق و باطل میں ہر قسم کا امتیاز پیدا کرنے والی ہو اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہم سے یہ وعدہ کیا ہے۔ނ اِنْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا (الانفال:۳۰) اگر تم اپنی راہ نمائی کے لئے قرآن کریم کو چنو گے اور پسند کرو گے اور اختیار کرو گے تو تمہیں بھی ایک امتیازی مقام دیا جائے گا اور تمہیں اللہ تعالیٰ حق و باطل میں امتیاز کرنے کی توفیق دے گا اور قرآن کریم کی روحانی برکات کے طفیل تمہیں ایک نور عطا کیا جائے گا جو صحیح کو غلط سے اور ظلمت کو روشنی سے جدا کرتا چلا جائے گا اور تمہاری راہ کو سیدھا اور آسان کر دے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس روحانی تاثیر کے متعلق بہت کچھ لکھا اور فرمایا ہے لیکن میں نے اس موقع کے لئے ایک مختصر سا حوالہ لیا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔پھر چوتھا معجزہ قرآن شریف کا اس کی روحانی تا ثیرات ہیں جو ہمیشہ اس میں محفوظ چلی آتی ہیں یعنی یہ کہ اس کی پیروی کرنے والے قبولیتِ الہی کے مراتب کو پہنچتے ہیں اور مکالمات الہیہ سے مشرف کئے جاتے ہیں۔خدائے تعالیٰ ان کی دعاؤں کو سنتا اور انہیں محبت اور رحمت کی راہ سے جواب دیتا ہے اور بعض اسرار غیبیہ پر نبیوں کی طرح ان کو مطلع