خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 31
خطبات ناصر جلد دوم ۳۱ خطبہ جمعہ ۲ فروری ۱۹۶۸ء شروع میں ساری دنیا کو اس کے لئے جسے وہ خداوند یسوع مسیح کہتے ہیں جیت لیں گے لیکن عین وقت پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا اور ان کے اس وہم کو دور کردیا لیکن ابھی طاغوتی طاقتوں کا سر جو اس شکل میں اور اس رنگ میں ظاہر ہوا تھا پوری طرح کچلا نہیں گیا اور ڈیسپریٹ (Desperate) ہو کر خائف ہو کر اسلام کے خلاف ہر جائز اور نا جائز طریق کو استعمال کرنے پر عیسائیت تل گئی ہے ایک مثال میں دیتا ہوں کہ کچھ عرصہ ہوا مغربی افریقہ سے یہ اطلاع ملی تھی کہ عیسائیوں کے ایک رسالہ میں یہ مضمون شائع ہوا ہے۔ایک بہت بڑے پادری کی طرف سے کہ جو طریق اس وقت تک ہم عیسائی بنانے کے لئے استعمال کرتے آئے ہیں وہ ناکام ہو گئے ہیں ہمیں سوچنا پڑے گا کہ نئے طریق اختیار کئے جائیں کیونکہ ایک لمبے عرصہ کے تجربہ نے ہم پر یہ ثابت کیا ہے کہ ان راہوں سے ہم کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتے اور اس نے یہ مشورہ دیا ہے کہ عیسائیت میں مغربی افریقہ کے رہنے والوں کی روایات اور عادات کے مطابق تبدیلیاں کر دی جائیں یہ لوگ بت پرست ہیں، وہم پرست ہیں جادو اور ٹونے کے قائل ہیں کچھ اس قسم کے خیالات عیسائیت کے اندر لے آنے چاہئیں تا کہ یہ لوگ عیسائی ہو جائیں۔ابھی دو ایک ہفتے ہوئے مشرقی افریقہ سے یہ اطلاع ملی ہے کہ وہاں بھی پادریوں نے سر جوڑا ہے اور انہوں نے یہ بحث کی ہے کہ جن راہوں کو ہم کامیابی کی راہیں سمجھتے تھے وہ تو نا کامی کی طرف ہمیں لے گئی ہیں اور یہ لوگ عیسائیت کی طرف متوجہ نہیں ہورہے اس واسطے ان کے ذہن اور ان کی عادتوں اور ان کی روایتوں کے مطابق عیسائی اعتقادات میں تبدیلی کر دینی چاہیے تا کہ ان لوگوں کو ہم عیسائی بنا سکیں یعنی عیسائیت کا ان پر لیبل لگ جائے چاہے وہ پتھر کی پرستش کرنے والے ہوں چاہے وہ درخت کی پرستش کرنے والے ہوں چاہے وہ جادو اور ٹونے کی پرستش کرنے والے ہوں لیکن عیسائیت کے اندر یہ چیزیں لے آؤ لیبل تو لگ جائے گا کہ عیسائی ہو گئے۔تو جو مذہب اس قسم کے ہتھیاروں کو استعمال کرنے کی طرف آجائے اس کی حالت کا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔بہر حال اس وقت وہ اپنا پورا زور لگانے پر تلے ہوئے ہیں کہ ہر جائز اور ناجائز طریق سے اسلام کے خلاف عیسائیت کو کامیاب کریں دراصل ہماری زندگی کا ، جماعت احمد یہ