خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 412
خطبات ناصر جلد دوم ۴۱۲ خطبه جمعه ۲۹ نومبر ۱۹۶۸ء اس دنیا اور اس کی عارضی خوشیوں کی کوئی قیمت نہیں ہے پس اگر جائز مجبوری اور عذر ہے تو نظام سے اجازت حاصل کر لو اور اگر عذرنا جائز اور بودا ہے تو پھر اپنی جانوں کی اور اپنی نسلوں کی فکر کرو اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لئے اپنے اور اپنی نسل کے اوقات پیش کرو اللہ تعالیٰ بڑی رحمتوں اور بڑی برکتوں سے تمہیں نوازے گا۔پھر اموال اور املاک جو ہیں وہ بعض دفعہ مستقل طور پر ہمیشہ کے لئے خدا کی راہ میں پیش کئے جاتے ہیں مثلاً ہم جو رقم بطور چندہ دے دیتے ہیں وہ رقم ہی مستقل طور پر خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیتے ہیں یا پھر املاک کو عارضی طور پر خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کیا جاتا ہے اور اسلامی تاریخ میں اس کی مثالیں بڑی کثرت سے پائی جاتی ہیں بعض دفعہ چندہ کا مطالبہ نہیں ہوتا بلکہ قرضہ حسنہ کا مطالبہ ہوتا ہے اور اس وقت صاحب حیثیت مخیر احباب بھی اور وہ احباب بھی جن کے پاس بہت تھوڑ اسرمایہ ہوتا ہے کچھ رقم بطور قرضہ دے دیتے ہیں جب رقم کی ضرورت وقتی ہو اور یہ امید ہو کہ مثلاً ایک مہینہ یا ایک سال کے بعد یہ ضرورت باقی نہیں رہے گی اور رقم بھی واپس کی جاسکے گی تو اس وقت چندہ کی اپیل نہیں کی جاتی بلکہ قرضہ حسنہ کی اپیل کی جاتی ہے۔اسی طرح بعض دفعہ املاک دینی کاموں کے لئے وقتی طور پر بھی پیش کی جاتی ہیں مثلاً جلسہ سالانہ کے موقع پر ہم اپنے گھر کا ایک حصہ وقتی استعمال کے لئے جماعت کے نظام کو پیش کرتے ہیں اور یہ اپنے املاک کو وقتی طور پر خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کرنے کی ایک مثال ہے اور یہ علانیہ قربانی ہے جو کی جاتی ہے۔ربوہ کے قریباً ہر گھر میں (قریب میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ میں ایک انسان ہوں اور علم غیب نہیں رکھتا لیکن جہاں تک مجھے علم ہے وہ یہ ہے کہ ہر گھر میں ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان ٹھہرتے ہیں اور جن گھروں میں رشتہ دار یا دوست یا واقف یا ان واقفوں کے واقف آ کر ٹھہرتے ہیں گھر والے ان کے لئے اپنے گھر کے بعض کمرے یا کمروں کے بعض حصے خالی کرتے ہیں اور پھر ان کا خیال رکھتے ہیں کہ انہیں کوئی تکلیف نہ ہو اور اس طرح وہ يُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنهُم سدا کے مطابق خفیہ طور پر خدا تعالیٰ کے حضور قربانی دے رہے ہیں جماعت کو اس کا کوئی