خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 411
خطبات ناصر جلد دوم ۴۱۱ خطبه جمعه ۲۹ نومبر ۱۹۶۸ء کی نعمتوں کا کوئی شمار نہیں بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں بہت کچھ دیا ہے اور جو بھی ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے کچھ ہماری راہ میں سرا یعنی خفیہ طور پر اور پوشیدگی میں خرچ کیا کرو اور کچھ علانية یعنی ظاہر طور پر خرچ کیا کرو اور خرچ کی بہت سی راہیں ہیں اور ان میں سے مختلف راہوں کی طرف ہم احباب جماعت کو بار بار توجہ دلاتے رہتے ہیں۔اس وقت میں جس راہ کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ جلسہ سالانہ کے اخراجات ہیں ان اخراجات میں سے ایک حصہ تو چندہ جلسہ سالانہ کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے جو ایک علانیہ خرچ ہے یعنی یہ ایسا خرچ ہے جو جماعت کے ریکارڈ میں آجاتا ہے۔یہ بات منتظمین اور خلیفہ وقت کے سامنے آجاتی ہے کہ فلاں فرد نے یا فلاں جماعت نے اس مد میں اتنا چندہ دیا ہے یا فلاں فرد اور فلاں جماعت نے اس بارہ میں سستی دکھائی ہے یہ خرچ تو بہر حال پورے ہونے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق اور اس کی حکمت کا ملہ سے جماعت کی مخلصانہ تربیت کے لئے ایک جلسہ کا انتظام کیا گیا ہے اور وہ جاری رہے گا انشاء اللہ۔ہم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس میں ظاہر طور پر ا۔اموال میں سے خرچ کرنا ہے۔جلسہ سالانہ کا ایک اور خرچ بھی علانیہ ہے ہم احباب سے رضا کارانہ طور پر جلسہ سالانہ کے موقع پر اوقات دینے کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ زندگی اور زندگی کا ہر سانس بھی اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔وَيُنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ ( میں اس وقت چونکہ جلسہ سالانہ کے متعلق بات کر رہا ہوں اس لئے میں کہوں گا کہ ) تم جلسہ کے کاموں کے لئے رضا کارانہ طور پر اپنے اوقات پیش کر و بعض دوست کسی جائز مجبوری کی وجہ سے خود یا اپنے بچوں کو جلسہ کے کاموں کے لئے پیش نہیں کر سکتے میں ان کو نصیحت کروں گا کہ وہ با قاعدہ اجازت لے لیں تا وہ نظام سلسلہ کی نگاہ میں سست اور کمزور نہ ٹھہریں لیکن بعض ایسے بھی ہیں جن کو دنیا کا لالچ دین کی خدمات سے محروم کر دیتا ہے انہیں میں کہوں گا کہ یہ دنیا چند روزہ ہے تمہیں پتہ نہیں کہ کتنے دن تم نے یا تمہاری اولا د نے اس دنیا میں زندہ رہنا ہے اس لئے تم اس ابدی حیات کی فکر کرو کہ جہاں کی نعمتیں اگر تمہیں حاصل ہو جائیں تو پھر شیطان یا اس کے وسوسے انسان کو وہاں سے نکال نہیں سکتے ابدی رضا کی جنتوں کے مقابلہ میں