خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 406
خطبات ناصر جلد دوم ۴۰۶ خطبه جمعه ۲۹ نومبر ۱۹۶۸ء مقام کو حاصل کرے گا جو اسے غیروں سے ممتاز کر دے گا۔آج میں ھدی للناس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں قرآن کریم میں سات سو احکام ہیں اور ان میں سے ہر ایک حکم کو جاننا اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا ایک مسلمان کا فرض ہے جو شخص جان بوجھ کر (اگر چہ وہ بعض احکام بجالا رہا ہو ) بعض احکام کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کا نافرمان اور اس کے غضب کے نیچے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔تم ہوشیار رہو اور خدا کی تعلیم اور قرآن کی ہدایت کے برخلاف ایک قدم بھی نہ اٹھاؤ۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے حقیقی اور کامل نجات کی راہیں قرآن نے کھولیں اور باقی سب اس کے ظل تھے۔سو تم قرآن کو تدبر سے پڑھو اور اس سے بہت ہی پیار کرو ایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو کیونکہ جیسا کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ الْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرانِ کہ تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں یہی بات سچ ہے افسوس ان لوگوں پر جو کسی اور چیز کو اس پر مقدم رکھتے ہیں تمہاری تمام فلاح اور نجات کا سرچشمہ قرآن میں ہے کوئی بھی تمہاری ایسی دینی ضرورت نہیں جو قرآن میں نہیں پائی جاتی تمہارے ایمان کا مصدق یا مکذب قیامت کے دن قرآن ہے اور بجز قرآن کے آسمان کے نیچے اور کوئی کتاب نہیں جو بلا واسطہ قرآن تمہیں ہدایت دے سکے خدا نے تم پر بہت احسان کیا ہے جو قرآن جیسی کتاب تمہیں عنایت کی۔قرآن کریم کے ان سات سو احکام میں سے اس وقت پہلے تو میں یہی بیان کروں گا کہ فمن شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُبُهُ (البقرة : ۱۸۲) کہ جو شخص بھی صحت کی اور روزے کی بلوغت کی حالت میں رمضان کا مہینہ پائے تو اس کا فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی بتائی شرائط کے مطابق روزہ رکھے۔قرآن کریم نے جو سات سوا حکام ہماری زندگیوں کو سد ہارنے اور اعتدال پر لانے کے لئے بیان کئے ہیں ان میں سے دو اور احکام میں اس وقت بیان کرنا چاہتا ہوں قرآن کریم کا ایک حکم یہ ہے