خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 407
خطبات ناصر جلد دوم ۴۰۷ خطبه جمعه ۲۹ نومبر ۱۹۶۸ء کہ فساد نہ کرو اور قرآن کریم کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں سے پیار نہیں کرتا بلکہ ایسے لوگ اس کے غضب کے نیچے آجاتے ہیں۔فساد کے لغوی معنی ہیں حد اعتدال سے نکل جانا معنی کی اس وسعت کے لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کریم کے ہر حکم سے بغاوت فساد ہے کیونکہ قرآن کریم کا ہر حکم استقامت اور اعتدال پر قائم رکھتا ہے فساد کئی شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے اور کسی شکل میں بھی وہ ہمارے محبوب رب کو محبوب نہیں۔اللہ تعالیٰ سورۃ بقرہ میں فرماتا ہے کہ دنیا میں بعض لوگ بھی پائے جاتے ہیں کہ جب وہ باتیں کرتے ہیں تو ان کی باتیں بڑی پسندیدہ معلوم ہوتی ہیں وہ ملک اور قوم کے خیر خواہ دین کے بھائی اور خدا سے پیار کرنے والے سمجھے جاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ـ (البقرة : ٢٠٢) یعنی جب بھی اسے موقع اور طاقت ملے وہ فساد پیدا کرنے کی غرض سے سارے ملک میں دوڑتا پھرتا ہے اور اس طرح حرث اور نسل کو ہلاک کرنے کی کوشش کرتا ہے اس کے بہت سے معنی ہو سکتے ہیں۔ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ایسا شخص جو خود کو ملک اور قوم کا ہمدرد اور خیر خواہ ظاہر کرتا ہے ان ذرائع اور اسباب پر ضرب لگاتا ہے جو دنیوی لحاظ سے قومی تعمیر کے کام آنے والے ہیں اور اُخروی لحاظ سے وہ کسی کو ان جزاؤں اور ان انعامات کا وارث کرتے ہیں جن کے لئے خدا تعالیٰ کا ایک مومن بندہ اس دنیا میں اس امید پر ہوتا ہے کہ وہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت بڑھ کر کھیتی کو کاٹے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْلَهُ فِي حَرْثِهِ وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا۔(الشوری: ۲۱) کہ جو شخص آخرت کے انعامات کے لئے اس دنیا میں کام کرتا ہے اسے بہت ملے گا اس نے جو کام کئے ہیں ان سے بھی بہت زیادہ ملے گا اور جو اس دنیا کے لئے کام کرتا ہے اسے بھی ہم عام قانون کے ماتحت محروم نہیں رکھیں گے اس کو بھی ہم اس دنیا میں اس کے کام کا اجر دیں گے۔لغت نے یہاں حزت کے معنی تعمیری کاموں کے بھی کئے ہیں یعنی ایسے کام جن کے نتیجہ