خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 401
خطبات ناصر جلد دوم ۴۰۱ خطبه جمعه ۲۲ / نومبر ۱۹۶۸ء حاصل نہ کریں ہدایت کی راہوں کا علم ہو جانے کے باوجود بھی ہدایت کی ان راہوں پر چلنے کے ہم قابل نہیں ہوتے۔پھر بینات یعنی حکمت کی باتیں ہیں اس کا تو ہے ہی دعا کے ساتھ تعلق اپنا تو اس میں کوئی ہے ہی نہیں یعنی جو عام استعداد انسان کو خدا نے دی ہے اس استعداد اور عقل کے نتیجہ میں ہدایت کو حاصل کیا جا سکتا ہے اس پر عمل کرنے کے لئے دعا سے اللہ کی تو فیق پاناضروری ہے لیکن حکمت کی باتیں، رموز جو ہیں ہدایت کے اندر چھپے ہوئے کہ کیوں یہ احکام دیئے گئے ہیں ان کا تعلق دعا صرف دعا سے ہے قرآن کریم سے علوم کا حاصل ہو جانا طہارت پر منحصر ہے لَا يَمَسة الا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة: ۸۰) اور وہ تزکیۂ نفس جس کے نتیجہ میں قرآن کریم کے علوم کھلتے ہیں وہ بازار سے نہیں خریدے جا سکتے نہ کسی مدرس سے حاصل کئے جاسکتے ہیں وہ تو خدا تعالیٰ سے ہی مل سکتے ہیں اور دعاؤں سے ہی حاصل کئے جاسکتے ہیں پھر تنویر قلب یعنی پردوں کا ہٹ جانا اور خدا کے نور کا سامنے آجانا اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق جو دل میں نور پیدا ہوا ہے اس کا اس نور کے ساتھ جو نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ہے ملاپ پیدا ہو جانا یا اَنَا الْمَوْجُود کی آواز سن لینا یہ تو محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر ہے اور اسے بھی دعا سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔تو یہ تین چیزیں جن کی طرف اس آیت میں ہمیں متوجہ کیا گیا ہے ہر سہ کے ساتھ دعا لگی ہوئی ہے ھدی للناس والے حصہ کے ساتھ بھی ، بینات کے حصہ کے ساتھ بھی ، اور فرقان کے حصہ کے ساتھ بھی اسی وجہ سے اکا بر مسلمان رمضان کے مہینہ میں ہمیشہ دعاؤں پر بڑا زور دیتے رہے ہیں جیسے رات کی نماز کی طرف جسے ہم تہجد کہتے ہیں، نوافل کہتے ہیں عوام کی سہولت کے لئے یہ پہلے وقت میں پڑھے جاتے ہیں اصل میں ان کا وقت پچھلی رات ہی ہے جس وقت ہم رمضان میں سحری کھاتے ہیں اس سے معا پہلے آدھا گھنٹہ ایک گھنٹہ یا دو گھنٹے جتنی بھی خدا توفیق دے وہ خدا کے حضور جھکے، علیحدگی میں، تنہائی میں، عاجزی کے ساتھ اور نیستی کا لبادہ پہن کر اس کے سامنے جائے اور اس بات کا اقرار کرے کہ میرے اندر کوئی طاقت نہیں ، میرے اندر کوئی قوت نہیں میں کوئی چیز حاصل نہیں کر سکتا تیرے فضلوں کو کیسے حاصل کر سکتا ہوں جب تک تیر افضل مجھے اس کی توفیق نہ دے اس لئے