خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 400 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 400

خطبات ناصر جلد دوم ۴۰۰ خطبه جمعه ۲۲ / نومبر ۱۹۶۸ء میں روزہ رکھا جائے اور خدا تعالیٰ اسے قبول کر لے تو اس کے نتیجہ میں تنویر قلب حاصل ہوتی ہے اور انسان کا دل منور ہو جاتا ہے یہی فرقان ہے اور اس سے کشف کا دروازہ کھلتا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسی مادی دنیا میں جس حد تک انسان کی سمجھ اور پہچان اور علم اور نظر اور بصارت میں آسکتا ہے وہ آجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا دروازہ کھل جاتا ہے یہ تنویر قلب ہے جس پہ تمام ا کا بر صوفیاء کا اتفاق ہے کہ روزہ کے نتیجہ میں تنویر قلب حاصل ہوتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک ایسا زندہ تعلق پیدا ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے وجود کے نور کی نہریں ایسے لوگوں کے لئے جاری کرتا ہے اور اپنے نور کی لہریں انہیں دکھاتا ہے تنویر قلب ہوتی ہے جو حجابات ہیں وہ دور ہو جاتے ہیں کشف الغطاء ہو جاتا ہے دل میں ایک نور پیدا ہوتا ہے جس حد تک انسان کے دل میں پیدا ہوسکتا ہے ہر ایک نے اپنی استعداد کے مطابق اس نور کو حاصل کرنا ہے اور اس نور کی پیدائش کے بعد انسان کے اس منور دل کا اس ہستی کے ساتھ ایک زندہ اور پختہ تعلق پیدا ہو جاتا ہے جو نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ہے اور پھر وہ اس نور کے جلوے دیکھنے لگتا ہے یہ معنی ہیں تنویر قلب کے اور یہ معنی ہیں کشوف کے۔اور پہلا درجہ اس کا یہ ہے کہ ایسا شخص آنَا الْمَوْجُود کی آواز سنتا ہے کیونکہ تعلق کا پیدا ہو جانا کوئی فلسفہ تو نہیں یہ تو ایک حقیقت ہے یا اس کا عدم ایک حقیقت ہے کہ یاوہ تعلق پیدا ہو گیا یا نہیں ہوا یہ کوئی فلسفیانہ خیال نہیں تو روزہ کے نتیجہ میں امتیازی مقام حاصل ہوتا ہے۔روزہ کے نتیجہ میں وہ مقام حاصل ہوتا ہے جو انسان دوسرے مذاہب سے عَلَى وَجْهِ الْبَصِيرَت یہ بات کر سکتا ہے کہ ہم نے اسلام کی برکات سے جو نور حاصل کیا ہے وہ تمہیں حاصل نہیں اور ان چیزوں کے لئے پھر دعا کی ضرورت ہے۔اسی واسطے ان آیات کے ساتھ ہی دعا کی طرف متوجہ کیا کہ اگر تم خلوص نیت کے ساتھ اور کامل عاجزی کے ساتھ دعا کرو گے تو میں اسے قبول کروں گا میں نے بتایا تھا کہ ھدی للناس والا حصہ جو ہے یعنی ہدایت کا معلوم ہو جانا وہ عام ہے ہر شخص اسے سمجھ سکتا ہے لیکن اس ہدایت پر عمل کرنے کی توفیق پانا مشکل ہے جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ توفیق حاصل نہ ہو تو اگر چہ ہدایت کا سمجھ لینا علم کا حاصل کر لینا آسان ہے لیکن ہدایت پر عامل ہو جانا بڑا مشکل ہے اس لئے ہمیں دعا کی ضرورت ہے جب تک دعا کے ذریعہ اللہ تعالی کی تو فیق کو ہم