خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 377
خطبات ناصر جلد دوم ۳۷۷ خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۶۸ء کہ وہ انہیں ان کی ذمہ داریاں یاد دلاتے رہیں وہ میرے نزدیک گنہگار ہیں اللہ تعالیٰ انہیں معاف کرے اور اہل ربوہ کو بھی اپنی ذمہ داریوں کو یاد دہانی کے بعد سمجھنے کی توفیق عطا کرے اور ہمارا نہایت اچھا اور خوشگوار ماحول ہو ہم سوائے خدا کے کسی سے ڈرنے والے نہ ہوں ہم ملیر یا کے مچھروں سے بھی نہ ڈریں ان کو ہم ماردیں کیونکہ جہاں ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے خوفوں کو دور کرنے کے لئے جو تدا بیر ہمیں بتائی ہیں ہم ان کو استعمال کریں ہم اگر عقل سے کام لیں تو ہم ملیریا سے نہیں ڈرتے اور ملیریا سے نہ ڈرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کو ۱۰۵ درجے کا بخار چڑھا رہے تب بھی ہم اس کی پروا نہیں کرتے اگر ہمیں ہر وقت بخار چڑھا رہے تو ہم کام کیسے کریں گے بلکہ ملیریا سے نہ ڈرنے کا طلب یہ ہے کہ ہم وہ تدبیر کریں گے جو خدا تعالیٰ نے ہمیں بتائی ہے اور مچھر مر جائیں گے۔پھر مکھیاں جو ہیں وہ بھی مرجانی چاہئیں اگر چہ ایک فلائی لیش (Fly Lash) ہر ایک کو خریدنا پڑے گا یہ ایک قسم کا مکھی مار ہوتا ہے جو بازار میں مل جاتا ہے۔چین نے سارے ملک کی مکھیاں مار دی ہیں وہاں حکومت نے حکم دے دیا تھا کہ ہر چینی خواہ چھوٹا ہو یا بڑا روزانہ ایک سوکھیاں مری ہوئی ٹاؤن کمیٹی (یا جو بھی ان کا انتظام ہے) میں دے دیا کرے ورنہ آپ کو علم ہے کہ وہاں ڈکٹیٹر ہیں وہ ان کے ساتھ جو جی چاہے کر سکتے تھے۔اس طرح انہوں نے سارے ملک کی مکھیاں مار دیں وہاں جو لوگ جاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہاں کوئی مکھی نظر نہیں آتی یہ صحیح ہے کہ ان کی جد و جہد کے مقابلہ میں ہماری کوشش زیادہ ہوگی ، ہمیں زیادہ محنت کرنی پڑے گی کیونکہ انہوں نے سب جگہوں پر لکھیاں ماردیں لیکن اگر ہم یہاں ساری لکھیاں ماردیں گے تو باہر سے اور آجائیں گی فرض کریں ہم جلسہ سالانہ سے پہلے پہلے اس کام میں کامیاب ہو جائیں لیکن جلسہ سالانہ پر قریباً ایک لاکھ آدمی باہر سے یہاں آئے گا اگر ان میں سے ہر ایک پانچ مکھیاں اپنے جسم پر لے کر ربوہ میں داخل ہو تو پانچ لاکھ مکھیاں اور آجائیں گی پھر وہ کھیاں بچے دیں گی اور اس طرح ان کی تعدا د اور بھی زیادہ ہو جائے گی اس لئے پھر سارا سال ہمیں کوشش کرنی پڑے گی۔پس گو یہ بڑا مشکل کام ہے لیکن کیا ہم اس مشکل کام سے ڈریں گے ایک عزم ہونا چاہیے اور پھر ہر وقت یا در ہانیاں ہوتی رہنی چاہئیں۔