خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 363 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 363

خطبات ناصر جلد دوم ۳۶۳ خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۶۸ء ربوہ میں رہنے والا ہر شخص اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ اپنے ماحول کو گندہ نہ ہونے دے خطبه جمعه فرموده یکم نومبر ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ پڑھیں۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُم - (النساء:۳۰) وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيْبَتِ ، أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَ بِنِعْمَتِ اللهِ هُمْ يَكْفُرُونَ - اس کے بعد فرمایا:۔(النحل : ۷۳) جس جگہ ہمارے ربوہ کی یہ آبادی اللہ تعالیٰ کے فضل سے قائم ہوئی اور ترقی کر رہی ہے یہ ایک بنجر زمین تھی ایک وقت اس زمین پر ایسا بھی آیا تھا کہ یہاں کے مقامی باشندے بھی یہاں سے اکیلے نہیں گزرا کرتے تھے بلکہ پانچ سات مل کر اس علاقے کو عبور کرتے تھے کیونکہ یہاں سانپوں کی بھی کثرت تھی اور چوروں اور ڈاکوؤں کے چھپنے کا بھی یہ مقام تھا اور بھیڑیئے وغیرہ بھی بعض دفعہ یہاں آ جاتے تھے۔ایک موقع پر ہمارے ایک احمدی بھائی جو حکومت میں افسر تھے یہاں سے گزرے وہ کسی طرف سے آئے تھے اور سرگودھا جا رہے تھے ان کے ڈرائیور نے