خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 360
خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۶۸ء لیکن اس کا یہ وعدہ ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک ایسی جماعت عطا کرے گا کہ جن کے اموال میں بھی وہ برکت ڈالے گا، جن کے نفوس میں بھی وہ برکت ڈالے گا اور جن کے وجود میں بھی وہ برکت ڈالے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ جن گھروں میں وہ رہ رہے ہوں گے ان کو بھی بابرکت کیا جائے گا جس چیز کو وہ ہاتھ لگا ئیں گے وہ بھی بابرکت ہو جائے گی جو کپڑے وہ پہنیں گے وہ بھی بابرکت ہو جائیں گے یہ وعدے تو پورے ہونے ہیں لیکن اگر انتہائی قربانیوں کے نتیجہ میں تم ان وعدوں اور ان بشارتوں کے حقدار نہیں بنو گے تو يَسْتَبدِل قَوْمًا غَيْرَ كُم وہ کچھ اور لوگ لے آئے گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائیں گے اور لَا يَكُونُوا امثالکم وہ قربانیاں دینے میں تمہاری طرح شست اور سکتے اور بخیل نہیں ہوں گے بلکہ وہ حقائق کو سمجھیں گے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر قربانی دینے کے لئے ہر وقت تیار رہیں گے۔پس آج تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان کرتے ہوئے میں یہ اعلان بھی کرتا ہوں کہ دفتر دوم کے اخلاص کے معیار کو بڑھانے کی کوشش کی جائے اور اوسط ۱۹ سے بڑھا کر ۳۰ تک لے جائی جائے اور دفتر سوم کی تعداد بڑھانے کی بھی کوشش کی جائے اور ان کے اخلاص کے معیار کو بھی تھوڑا سا بڑھانے کی کوشش کی جائے تا آئندہ سال کے ہمارے وعدے اور وصولیاں ساڑھے پانچ لاکھ کی بجائے سات لاکھ نوے ہزار ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں خیر و برکت ہے اور اس کی دو انگلیوں میں انسان کا دل ہے خدا کرے کہ اللہ تعالیٰ کی انگلیاں ایسے زاویہ پر ہلیں کہ آپ کے دل خدا تعالیٰ کی برکتوں اور اس کے نور سے بھر جائیں اور آپ کا سینہ اس احساس ذمہ داری سے معمور ہو جائے کہ خدا کی راہ میں آج مالی قربانیاں دینے کی ضرورت ہے تاہم بنی نوع انسان کو اس ہلاکت سے بچا سکیں جس سے انہیں ڈرایا گیا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا کرے۔جماعت کراچی اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے دوسری جماعتوں سے آگے نکل گئی ہے ابھی ان کی تار مجھے ملی ہے کہ سال رواں میں ان کا وعدہ ایک لاکھ ایک ہزار روپیہ کا تھا اس میں سے وہ اب تک پچانوے ہزار روپیہ جمع کر چکے ہیں اور باقی چھ ہزار روپیہ ( وہ اُمید رکھتے ہیں کہ )