خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 361
خطبات ناصر جلد دوم ۳۶۱ خطبه جمعه ۲۵ /اکتوبر ۱۹۶۸ء اس مہینہ کے آخر تک جمع کر لیں گے اگر چہ ہمارا وعدوں کا سال یکم نومبر سے شروع ہو جاتا ہے لیکن ہماری ادائیگیاں کچھ عرصہ بعد تک چلتی رہتی ہیں لیکن جماعت احمدیہ کراچی اپنا وعدہ بھی اور ادائیگی بھی یکم نومبر سے پہلے پہلے کر دے گی انشاء اللہ اور آئندہ سال کے لئے انہوں نے ایک لاکھ ایک ہزار روپیہ کی بجائے ایک لاکھ پانچ ہزار روپیہ کا وعدہ کیا ہے۔میں نے سوچا تھا کہ کراچی کی جماعت چونکہ پہلے ہی اپنے اخلاص اور قربانی میں بلند مقام پر ہے اور ان کا وعدہ ایک لاکھ ایک ہزار روپیہ قریباً ان کی استعداد کی انتہا تک پہنچا ہوا ہے میرا خیال تھا کہ اجتماع انصار اللہ میں جب میں تحریک جدید کے چندہ کے متعلق مختلف جماعتوں کے نمائندوں سے سوال کروں گا تو میں ان سے یہ نہیں کہوں گا کہ ایک لاکھ ایک ہزار سے کچھ آگے بڑھیں چند روپے تو بہر حال بڑھنے چاہئیں لیکن زیادہ بڑھانے کے لئے نہیں کہوں گا لیکن وہ خود ہی ایک لاکھ ایک ہزار روپیہ سے بڑھ کر ایک لاکھ پانچ ہزار روپیہ تک پہنچ گئے ہیں اس کے مقابلہ میں بہت سی جماعتیں ہیں جو اپنی قوت اور استعداد (اور اگر میں یہ کہوں کہ اپنے اخلاص کے مطابق تو یہ غلط نہیں ہو گا) کے مطابق وہ تحریک جدید میں حصہ نہیں لے رہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان پر تحریک جدید کی اہمیت واضح نہیں ہوئی اگر ان مخلصین جماعت پر ان کاموں کی اہمیت کو واضح کیا جائے اور بنی نوع انسان کی ضرورت کا احساس انہیں دلایا جائے اور جو تھوڑی بہت قربانیاں انہوں نے دی ہیں یا وہ آئندہ دیں گے ان سے جو شاندار نتیجے نکلے ہیں یا ہم اپنے ربّ سے توقع رکھتے ہیں کہ آئندہ نکلیں گے وہ ان کے سامنے رکھے جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اپنے دوسرے بھائیوں سے اس مالی قربانی میں پیچھے رہ جائیں۔دفتر تحریک جدید کو بھی اور جماعت کے دوسرے عہدیداروں کو بھی زمینداروں کے سامنے یہ باتیں رکھنی چاہئیں اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے زمینداروں کی آمد بہت بڑھ گئی ہے گو بعض جگہ بعض وقتیں بھی ہیں لیکن اچھے بیج مل گئے ہیں۔پانی کی بہتات ہے اور کھا بھی نسبتا سہولت سے مل جاتی ہے اس طرح زمینداروں کی آمدنیاں دو گنا تین گنا چار گنا ہوگئی ہیں میرے علم میں ہے کہ بعض چھوٹے چھوٹے زمینداروں کی بھی آمد پانچ پانچ گنا ہوگئی ہے مثلاً گذشتہ سے پیوستہ سال جس کی ساری کاشت میں گندم کی ستر پچھتر من پیداوار ہوئی