خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 23
خطبات ناصر جلد دوم ۲۳ خطبه جمعه ۲۶ / جنوری ۱۹۶۸ء غلط فہمیاں اللہ تعالیٰ نے دور کر دیں اور بڑے ہی متاثر ہو کر وہ یہاں سے گئے۔یہ لوگ دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں دعا کرنی چاہیے کہ دنیا کی دلدل سے اللہ تعالیٰ ان کی نجات کے سامان پیدا کرے اور وہ غلبہ اسلام کی اس عظیم مہم میں حصہ لینے لگیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں جاری کی ہے۔جلسہ کی تقریر کے وقت بھی میں سارے مجمع پر نظر رکھتا ہوں مجھے سوائے بشاشت اور سیری کے جذبات کے اور کچھ نظر نہیں آیا محبت کا جو اظہار جماعت کرتی ہے وہ تو بیان نہیں ہوسکتا اور نہ اس کا شکر یہ ادا کیا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں جزا دے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا ہے کہ شمار فضل اور رحمت نہیں ہے تہی اس سے کوئی ساعت نہیں ہے اس کا نظارہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ویسے تو یہ دو مصرعے اوپر نیچے ہیں لیکن ایک دن میری زبان پر اسی ترتیب سے یہ آئے تھے اس لئے میں اسی ترتیب سے بولتا ہوں۔شمار فضل اور رحمت نہیں ہے تہی اس سے کوئی ساعت نہیں ہے تو ہر ساعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کو ہم نے یہاں نازل ہوتے دیکھا صرف ربوہ ہی میں نہیں ساری دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فرشتے اسلام کے حق میں ایسے سامان پیدا کر رہے تھے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی رحمتوں کا انتشار صرف یہیں نہیں بلکہ ساری دنیا میں ہی نزولِ رحمت ہوتا ہمیں نظر آتا ہے۔میں ایک خط کے بعض اقتباسات آپ کو پڑھ کے سناؤں گا۔جلسہ کے عین اختتام پر امام کمال یوسف کی تار آئی تھی کہ وہاں بعض پادری مخالفانہ مضمون بھی لکھ رہے ہیں اب دو روز ہوئے مجھے ان کا خط ملا اس کے اقتباسات میں اس لئے پڑھ کے سنانا چاہتا ہوں کہ دوست اس بات کو پہچان لیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر کس قسم کے فضل