خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 322
خطبات ناصر جلد دوم ۳۲۲ خطبہ جمعہ ۲۷ ستمبر ۱۹۶۸ء اس میں کس قسم کی فطری کمزوریاں پائی جاتی ہیں لیکن تو جانتا ہے۔اے ہمارے رب ! ایسا سامان پیدا کر دے کہ یہ بشری کمزوریاں اس سے سرزد نہ ہوں اور وہ روحانی راہوں پر بغیر کسی روک کے آگے ہی آگے بڑھتے چلے جائیں، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کٹ نہ جائیں کٹی ہوئی شاخ کی طرح آپ کے وجود کے درخت سے منقطع نہ ہو جائیں یا اس ذرہ کی طرح نہ ہو جائیں جس کو جسم اپنے سے جدا کر دیتا ہے کیونکہ تیری رحمت بھی وسیع ہے اور تیرا علم بھی وسیع ہے جو غلطی ان سے سرزد ہو گئی ہے تو اسے اپنی رحمت کی چادر میں ڈھانپ لے اور جس غلطی کے سرزد ہونے کا امکان ہے اور تو ہی اسے بہتر جانتا ہے تو ایسے سامان پیدا کر دے کہ اس قسم کی بشری کمزوریاں ان سے سرزد نہ ہوں اور ان کی فطرت کو تیری طاقت ہمیشہ سہارا دیتی رہے اس طرح وہ اس عذاب جحیم سے بچ سکتے ہیں جسے تیرے قہر کی آگ بھڑکاتی ہے۔اور اے خدا! کسی ایک زمانہ کے متعلق ہماری یہ دعا نہیں بلکہ انہیں بھی اور ان کے بڑوں کو بھی ، پہلوں کو بھی اور بعد میں آنے والوں کو بھی تو مغفرت کی چادر میں ڈھانپتا رہے یعنی یہ ایک لمبا زمانہ ہے جو قیامت تک چلا جائے گا نسلاً بعد نسل امت محمدیہ میں زیادتی اور کمی ہوتی رہے گی کچھ لوگ اس جہان سے گزر جائیں گے اور کچھ اور پیدا ہو جائیں گے پس تو پہلوں پر بھی اور جو حال کی نسل ہے ان پر بھی ( ازْوَاجِھم ان کے ساتھی یہ الفاظ حال کو بتا رہے ہیں ) وذريتهم آئندہ آنے والی نسلوں پر بھی تو رحمت اور مغفرت کر اور ان سے پیار کا سلوک کر اور ان کو اس قابل بنا دے کہ وہ محمد عربی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے وجود کا حقیقی ذرہ بن جائیں اور ان تمام نعمتوں سے وہ حصہ لیں جو تو نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مقدر کی ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے فطری کمزوریوں سے محفوظ رکھنے اور فطری کمزوریوں کے ظاہر ہونے سے بچانے کے لئے یہ انتظام کیا کہ ایک طرف فرشتوں کو دعا پر لگا دیا اور دوسری طرف یہ انتظام کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما یا اسْتَغْفِرْ لَهُم تو ان کے لئے استغفار کرتا رہے تا اگران سے کوئی فطری کمزوری سرزد ہو تو اس کا بد نتیجہ نہ نکلے تیرا رحم اس طرح جوش میں آئے کہ فطرت کی کمزوریوں کو تیری طاقت سہارا دیتی چلی جائے اور کوئی بدی اور کمزوری واقع ہی نہ ہو غرض