خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 318
خطبات ناصر جلد دوم ۳۱۸ خطبہ جمعہ ۲۷ ستمبر ۱۹۶۸ء اس کے بعد حضور نے فرمایا:۔گذشتہ جمعہ میں نے بتایا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارفع مقام کے طفیل اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اُمت مسلمہ کو قائم کیا یہ امت ( یہ جماعت مومنین ) ایک وجود کی حیثیت اور ایک وجود کا رنگ رکھتی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی روح اور اس کی زندگی کا باعث ہیں اور اس اُمت کے وجود کے سینہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل ہی دھڑکتا ہے اور یہ بتانے کے لئے کہ یہ ایک ہی وجود ہے اللہ تعالیٰ نے مختلف پیرایوں میں اس پر روشنی ڈالی ہے۔کہیں ہمیں یہ بتایا کہ اس مخالف کے مقابلہ میں جو اس وجود کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا ہے وہ بنیان مرصوص کی طرح ہیں یعنی ایسی دیوار کی طرح ہیں جس پر پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا جاتا ہے اور وہ ایک جان ہو جاتی ہے کبھی اس رنگ میں اسے پیش کیا کہ باہمی تعلقات ان کے لطف اور ترحم کی بنیادوں پر قائم ہیں رُحَمَاء بَيْنَهُم جس کی تفصیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی کہ جس طرح ایک جسم کا کوئی عضو بیمار ہو یا تکلیف میں ہو یا درد محسوس کرے تو سارا جسم ہی درد محسوس کرتا ہے یہی حالت امت مسلمہ یعنی جماعت مومنین کی ہے۔اس جماعت مسلمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کی برکت سے آپ میں فنا ہونے کی توفیق پائی آپ کے رنگ سے رنگ پکڑنے کی توفیق حاصل کی اور آپ کی برکت سے یہ نعرہ لگانے کی بھی توفیق پائی کہ اسلمْنَا لِرَبِّ الْعلمین ہم سب خدا کے حضور ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے جھکتے ہیں اور حقیقی اسلام پر قائم ہو کر اللہ تعالیٰ کے حکموں کا جوڑا اپنی گردن پر رکھتے ہیں جب اس اُمت نے اس مقام کو حاصل کیا اور اپنے پر ایک موت کو وارد کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک نئی زندگی عطا کی ایک نیا وجود بنا دیا اور اس روحانی وجود ( جسے ہم اُمت مسلمہ بھی کہتے ہیں ) کا ایک خاصہ اور ایک صفت یہ ہے کہ وہ سب ایک دوسرے کے لئے دعائیں کرنے والے ہیں سب کو اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کی دعائیں حاصل ہیں سب کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد باری ہے کہ ان کے لئے دعائیں کرو اور جو نتیجہ اس کا نکلتا تھا وہی نکلا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے وارث بنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَصَلَّ عَلَيْهِمْ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس