خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 251 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 251

خطبات ناصر جلد دوم ۲۵۱ خطبه جمعه ۱۶ اگست ۱۹۶۸ء اے خدا! غضب کی نگاہ سے ہمیں بچائے رکھ کیونکہ ہم اس کی تاب نہیں لا سکتے اور محبت اور پیار اور رضا کی نگاہ ہم پر پڑتی رہے کیونکہ اس کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے۔کیا زندگی ہے اگر خدا کے پیار کی نگاہ نہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان ہر دور استوں پر چلنے کی توفیق عطا کرے جن کا ذکر میں نے ابھی کیا ہے یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک شدید حقیقی اور بشاشت کا تعلق اور جس غرض کے لئے آپ مبعوث ہوئے ہیں اس غرض کو کامیاب بنانے کے لئے ہماری زندگیاں گزریں تا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فرشتوں کی دعاؤں کے ہم وارث ہوں اور جو فیصلے اور احکام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہمیں پہنچے ہیں بشاشت سے ان کو قبول کریں اور ان پر عمل کریں اور اپنے لئے کوئی اختیار باقی نہ سمجھیں یہ نہ کہیں کہ قوم میں یا خاندان میں یا ا برادری میں یا دوستوں میں ناک کٹ جائے گی ناک اس کی کٹتی ہے جس کو خدا کی چُھری کاٹتی ہے اس کی ناک نہیں کٹتی جو خدا تعالیٰ کی اطاعت میں دن گزار رہا ہو اور دنیا کی انگلی اس کی طرف اٹھے یا اس کے دوست یا رشتہ دار یا قوم یا خاندان طعن کی زبان اس کے خلاف استعمال کریں یہ بیہودہ خیال ہے لیکن بہر حال میں بدعات اور رسوم کے متعلق ایک دوسری آیت کے سلسلہ میں کچھ بیان کروں گا اب تو اس دعا پر ہی ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں محض اپنے فضل اور توفیق سے عاجزانہ راہوں پر چلتے رہنے کی توفیق بخشے اور ایسے سامان پیدا کرے محض اپنے فضل سے کہ ان راہوں سے ہم نہ بھٹکیں جن را ہوں پر ہم چل کر اس کی رحمت کے وارث بن سکتے ہوں۔روزنامه الفضل ربوه ۳۰/نومبر ۱۹۶۸ ء صفحه ۲ تا ۴)