خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 232
خطبات ناصر جلد دوم ۲۳۲ خطبہ جمعہ ۲۶ / جولائی ۱۹۶۸ء دنیا جسے تکلیف سمجھتی ہے دنیا جسے مفلسی قرار دیتی ہے، دنیا جسے بیکسی کا نام دیتی ہے ان ساری چیزوں میں سے ہم نے گزرنا ہے ہم انہیں رضاء الہی کے حصول کی خاطر کوئی چیز نہیں سمجھتے جس کا ہاتھ خدا کے ہاتھ میں ہو جس نے اپنے رب کی انگلی پکڑی ہوئی ہو ، وہ اگر ایک سال کا بچہ بھی ہے اور اس کے دماغ میں سمجھ ہے تو وہ یہ کہے گا کہ میں کچھ بھی نہیں ایک سال کے بچے میں کیا طاقت ہوتی ہے، نہ علم نہ عقل اور نہ تجربہ کچھ بھی نہیں ہوتا ، نہ اس میں جسمانی طاقت ہوتی ہے لیکن وہ ایک غریب اور ناکارہ اور مفلس اور کم مایہ ماں کی انگلی پکڑ لے تو اس کی گردن تن جاتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اب مجھے دنیا کی کوئی طاقت کچھ نہیں کہ سکتی اس کا یہ خیال تو بچپنے کا ہوتا ہے لیکن ایک مومن جب واقعہ میں اپنے رب کی انگلی پکڑ لیتا ہے اور اپنے وجود پر ایک فنا وار د کر لیتا ہے اور خدا کو کہتا ہے مجھ میں ایک کمزور کم عمر بچہ جتنی بھی طاقت نہیں تو ہی میرا سب کچھ کر اور پھر پیار سے وہ اس کی انگلی پکڑ لیتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا بڑا ہی طاقتور ہے اس کی محبت اور اس کی قدرت کے وہ جلوے دیکھتا ہے ہم نے اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کر کے علم کو پھیلانا ہے، اللہ سے معرفت حاصل کر کے خدا کی معرفت دنیا میں قائم کرنی ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کرنے کے بعد دنیا کے دلوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ سے عقل لینی ہے فراست لینی ہے خدا تعالیٰ ہمارا امتحان لیتا ہے، اخلاص کا بھی، فراست کا بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جتنی فراست مومن کی ہے کسی اور شخص کی نہیں ہوتی کیونکہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے کہ مومن کی فراست سے بچتے رہا کرو ڈرتے رہا کرو لیکن کسی اور اُمت کے متعلق یہ نہیں کہا اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مومن کی فراست کے مقابلہ میں کسی اور کی فراست نہیں ہے غرض چونکہ مومن کو خدا تعالیٰ نے اتنی فراست دی ہے اس لئے آپ کو ساری دنیا کے حالات پر سوچتے رہنا چاہیے میں بھی سوچتا ہوں اور غلبہ اسلام کے لئے ہم نے ہر ممکن کوشش کرنی ہے اور دس سال بعد جو واقعات ہونے والے ہیں یا بیس سال بعد جو واقعات ہونے والے ہیں اور جس طرف زمانہ کا رُخ ہے اس کے متعلق ہمیں سوچتے رہنا چاہیے۔