خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 229 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 229

خطبات ناصر جلد دوم ۲۲۹ خطبہ جمعہ ۲۶ / جولائی ۱۹۶۸ء غضب اور اس کی رحمت سے محرومی سے بچا نہیں سکتی ایک اور گروہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ان پر میں اپنی رحمت کی بارش برساؤں گا، ان کو اپنی رحمت کے سایہ تلے رکھوں گا، ان کے لئے میں اپنی رحمت کے دروازے کھولوں گا، ان کو میں اپنی رحمت کی جنتوں میں داخل کروں گا جب اس کا کسی فرد یا گروہ کے متعلق یہ فیصلہ ہو جائے تو چھوٹا ہو یا بڑا،غریب ہو یا امیر، صاحب اقتدار ہو یا نہ ہو، اس شخص یا جماعت کے لئے خدا تعالیٰ کے فیصلہ کے مطابق رحمت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔دکھ اور عذاب کا فیصلہ جب کسی قوم کے متعلق ہوتا ہے تو جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں یہ فرماتا ہے کہ خدا ذرا بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہی فرماتا ہے کہ وہ تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہے، کوئی بڑائی اس کی طرف منسوب نہیں ہوسکتی، کوئی نقص اس میں پایا نہیں جا سکتا، وہ ہر لحاظ سے ایک کامل اور مکمل ذات ہے پس جب اس نے یہ کہا کہ جب میں کسی قوم کے متعلق سُوء کا فیصلہ کرتا ہوں تو میرے غضب سے کوئی طاقت انہیں بچا نہیں سکتی تو ساتھ ہی ہم اپنے پیارے رب سے یہ توقع اور اُمید رکھتے ہیں کہ وہ ہم پر ان راہوں کی نشان دہی بھی کرے گا جن راہوں پر چل کر اللہ تعالیٰ سے انسان دور ہو جاتا ہے اور اس کے قہر اور غضب کا نشانہ بنتا ہے۔قرآن کریم میں گو بہت سے مقامات پر ان کا ذکر موجود ہے لیکن سورۃ احزاب کو ہی جب میں نے اس زاویہ سے دیکھا تو بہت سی باتیں مجھے وہاں نظر آئیں جن میں سے گیارہ باتیں جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا اور انسان اس کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کے حق میں یا اس جماعت کے حق میں سُوء کا فیصلہ کیا جاتا ہے یعنی دکھ اور عذاب اور رحمت سے محرومی کا ، ان کا ذکر میں کلاس کے سامنے کر چکا ہوں اور میرا خیال تھا کہ میں آج کا خطبہ دوسرے حصہ پر دوں گا اور اختصار کے ساتھ مضمون کو ختم کر دوں گا پھر اللہ تعالیٰ سے یہ اُمید رکھوں گا کہ وہ جماعت کی تعلیم اور تربیت کے لئے اور ضروری مضامین خود سکھا دے گا علم بھی انسان خدا سے ہی حاصل کرتا ہے اس کی توفیق کے بغیر علم بھی نہیں ملتا پھر اس کے علم کے تعلق میں بیان کی جو تو فیق ملتی ہے وہ بھی