خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 230 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 230

خطبات ناصر جلد دوم ۲۳۰ خطبہ جمعہ ۲۶ / جولائی ۱۹۶۸ء اس کے فضل سے ملتی ہے لیکن ایک تو میں نے اپنی صحت کے لئے دعا کی تحریک کرنی تھی اور دوسرے فضل عمر فاؤنڈیشن کا بڑا ضروری مسئلہ تھا اسے مسئلہ ہی کہنا چاہیے کیونکہ بعض ان دوستوں کے لئے جنہوں نے ابھی تک اپنے وعدہ کے مطابق فضل عمر فاؤنڈیشن کا چندہ ادا نہیں کیا یہ ایک مسئلہ ہی بن گیا ہے اور میں نے ان لوگوں کو نصیحت کرنی تھی تیسرے میں بہت لمبا خطبہ دے بھی نہیں سکتا یعنی ڈیڑھ دو گھنٹے کا خطبہ کیونکہ میری صحت ابھی ٹھیک نہیں ہے اور اس لئے بھی کہ اس گرمی میں آپ کی طبیعت کا خیال بھی رکھنا چاہیے یہاں جوان بھی بیٹھے ہیں، ہمت والے بھی بیٹھے ہیں ، صحت مند بھی ہیں لیکن بوڑھے بھی ہیں اور کچھ میرے جیسے نیم مریض بھی ہیں، کچھ ہماری کمزور بہنیں بھی ہیں ، ان سب کا خیال رکھنا چاہیے۔ویسے تو گرمیوں میں اس خطبہ سے بھی چھوٹا خطبہ ہونا چاہیے جتنا آج میں نے دیا ہے یعنی ۲۰ - ۲۵ منٹ کے قریب ،سو میں اسی پر خطبہ ختم کرتا ہوں۔دوست اس یقین کے ساتھ کہ شفا خدا کے ہاتھ میں ہے میری صحت کے لئے دعا کریں اپنی صحت کے لئے بھی دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ صحت مند رکھے بیماری سے شفا بھی وہی دیتا ہے صحت پر قائم بھی وہی رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرمائے اور اپنی رحمت کا وارث بنائے۔فضل عمر فاؤنڈیشن کا یہ آخری سال ہے کوئی شخص اس دھو کہ میں نہ رہے کہ اس سال اگر شستی دکھائی تو آئندہ سال اس شستی کو دور کر دیں گے کیونکہ آئندہ سال اغلب یہ ہے کہ فضل عمر فاؤنڈیشن کی وصولی کا سال نہیں ہوگا ممکن ہے کہ کسی اور تحریک کی وصولی کا سال بن جائے یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے خصوصاً غیر ممالک میں جو ہمارے مبلغ اور عہدیدار ( مقامی جماعت) کے ہیں ان کو بار بار جماعت کے سامنے یہ بات لانی چاہیے کہ فضل عمر فاؤنڈیشن کے اس تیسرے اور آخری سال میں اپنے وعدوں کو پورا کرے۔بیرونی ممالک کی جماعتوں نے اس مد میں جو چندے دئے ہیں وہ انہی ممالک میں ہی ہیں اس لئے کہ بہت سے ممالک ایسے ہیں جو اپنے ملک کا روپیہ دوسرے ملک میں جانے نہیں دیتے اس لئے بہر حال وہ روپیہ فضل عمر فاؤنڈیشن کے کسی منصوبہ کے ماتحت ان ملکوں میں ہی خرچ ہوگا، اشاعت اسلام کے لئے، قرآن کریم کے تراجم کے لئے وغیرہ وغیرہ بہت سے کام کرنے والے ہیں ) اور جہاں ممالک روپیہ باہر جانے کی اجازت دیتے ہیں وہاں ہم نہیں