خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 216
خطبات ناصر جلد دوم ۲۱۶ خطبہ جمعہ ۱۹ جولائی ۱۹۶۸ء احکام قرآنی کے بجالانے میں اپنے نفسوں پر شفقت نہیں کرتے مثلاً یہ نہیں کہتے کہ باہر ٹھنڈ ہے ہم گرم کمرہ میں بڑے آرام سے لیٹے ہوئے ہیں ہم لحاف سے باہر کیوں نکلیں وہ یہ نہیں کہتے کہ کمرہ میں ٹھنڈ ہے اور باہر اتنی شدید گرمی ہے باہر نکلا تو بیمار ہو جاؤں گا اس لئے میں ظہر کی نماز کے لئے مسجد میں کیوں جاؤں۔وہ یہ نہیں کہتے کہ خدا نے رزق دیا ہے اس کو استعمال کرنا چاہیے ہم رمضان کے مہینہ میں بھی دوسرے مہینوں کی طرح خوب کھائیں گے اور شیطان یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے تمہیں اپنے آپ کو محروم نہیں کرنا چاہیے لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کی عطا سے ایک خاص وقت کے اندر اپنے آپ کو محروم کرتا ہے وہ خدا کے حکم سے کرتا ہے کیونکہ اصل عطا جو خدا سے کسی کو حاصل ہوتی ہے وہ کامل اطاعت اور فرماں برداری کی عطا ہے وہ اس ذہنیت کی عطا ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی عطا اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو نہیں ملتی کہ وہ خوشی اور بشاشت کے ساتھ ہر قدم پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرماں برداری کرتا چلا جائے۔غرض احکام کی بجا آوری، نواہی سے پر ہیز حوادث زمانہ کی تکلیفوں اور مخالف طاقتوں سے جو دکھ پہنچتے ہیں ان کو خندہ پیشانی اور بشاشت سے قبول کرنا چاہیے خدا کی راہ میں جو پیش آئے اس سے انکار نہیں کرنا چاہیے کوئی یہ نہ کہے کہ مجھے نہیں منظور اور موسیٰ علیہ السلام کی اُمت کی طرح مثلاً یہ نہ کہے کہ ایک کھانے سے تو تسلی نہیں ہوتی بہت سے کھانوں کا انتظام کیا جائے۔ہمیں بھی تربیت کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایک کھانے کی تلقین کی ہوئی ہے یہ صحیح ہے کہ بعض مجبوریوں کی وجہ سے بعض گھروں میں ایک سے زائد کھانے پک جاتے ہیں طبائع میں اتنا اختلاف ہے کہ ہمارے بعض بچے گوشت کھاتے نہیں اور ہمیں اس سے بعض دفعہ تکلیف بھی ہوتی ہے اور ان کے لئے دال بہر حال پکانا پڑتی ہے میں بھی گھر میں دو تین کھانے پکے ہوں تو ایک کھا نا جو مجھے پسند آ جائے اور میری طبیعت کے موافق ہو لے لیتا ہوں اور کھا لیتا ہوں ہمارا ایک بچہ ہے وہ گوشت بالکل نہیں کھا تا وہ دال لے لے گا یا دال کی بجائے آلو کا بھرتہ لے لے گا اور اسے کھائے گا بہر حال یہ بھی ایک مشقت ہے بظاہر یہ ایک معمولی چیز ہے لیکن انسان کا نفس اسے دھوکہ دیتا ہے اور اسے کہتا ہے تو یہ نہ کر تو تکلیف میں کیوں پڑتا ہے؟ بہر حال خدا کی راہ میں جو بھی مشقت ، تکلیف اور دکھ