خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 215 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 215

خطبات ناصر جلد دوم ۲۱۵ خطبہ جمعہ ۱۹؍ جولائی ۱۹۶۸ء ا ہے اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب میں رہنا چاہیے لیکن آپ کوئی تد بیرا اپنی حفاظت کی نہیں کرتے تھے آپ کے پاس دنیوی سامان ہی کیا تھا؟ تدبیر کیا کرنی تھی بہر حال آپ نے اپنی عصمت اور حفاظت کا کوئی سامان نہیں کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ چونکہ آپ اپنا سب کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے اور اپنی زندگی اور اپنی موت اور اپنا ہر سانس اور عبادتیں وغیرہ سب کچھ خالص خدا تعالیٰ ہی کے لئے سمجھا اس یقین کے ساتھ کہ یہ اللہ کا حق ہے جو اسے دیتا ہوں میرا اپنا تو کچھ بھی نہیں۔جانتے ہو خدا تعالیٰ نے اس کے جواب میں کیا کیا؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ خدا نے کہا وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ( المائدة : ۶۸) چونکہ آپ ہر وقت اپنی جان اپنے ربّ کے حضور پیش کر رہے تھے اس لئے خدا نے کہا میں تمہاری حفاظت کا ذمہ دار ہوں اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال قدرت کے ساتھ اور نہایت ارفع شان کے ساتھ اس بات کو دنیا کے سامنے ظاہر کر دیا کہ خدا تعالیٰ ہی آپ کا محافظ اور معین اور آپ کو بچانے والا تھا دشمن کا کوئی حربہ آپ کے خلاف کارگر نہیں ہوا اور آپ کے نفس کو ، آپ کی ذات کو ، آپ کے جسم کو خدا تعالیٰ نے بچایا اور محفوظ رکھا نیز آپ کی اُمت کو بھی اپنی حفاظت میں رکھا۔دنیا میں بڑے بڑے انقلاب بپا ہوئے بعض ملکوں سے اسلام مٹا یا گیا یہ تو درست ہے لیکن یہ کہ اسلام دنیا سے مٹ جائے اس میں کبھی بھی شیطان کامیاب نہیں ہوا نہ ظاہری طور پر نہ روحانی طور پر کیونکہ اُمت مسلمہ میں ہر وقت اور ہر زمانہ میں ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنے کے بعد اس کی سکھائی ہوئی ہدایت اور اس کے بتائے ہوئے علوم قرآنیہ کے نتیجہ میں اسلام کی شمع کو روشن رکھتے رہے ہیں کبھی تعداد کم تھی اور کبھی زیادہ لیکن کوئی زمانہ ایسا نہیں کہ جس کے متعلق تاریخ نے یہ شہادت نہ دی ہو کہ اس زمانہ میں خدا کے نیک بندے اسلام کے جھنڈے کو بلند کر رہے تھے کتنی عظیم عصمت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوئی کہ آپ نے کہا خدا کی راہ میں قربانی دینے سے میں ہچکچاتا نہیں اور اپنی حفاظت کرنے کی مجھے ضرورت نہیں کیونکہ آپ نے اپنے نفس پر شفقت نہیں کی اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ پر انتہائی شفقت کی اسی طرح جولوگ