خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 190
خطبات ناصر جلد دوم ۱۹۰ خطبہ جمعہ ۲۱؍جون ۱۹۶۸ء کہاں مٹے گا۔یہ ایک مثال ہے دنیا میں اور ہزاروں مثالیں ہیں۔روسی دنیا کے سامنے جب ہم اللہ تعالیٰ کے نشان پیش کرتے ہیں ان سے بات نہیں کی جاسکتی۔ایک دفعہ ہمارے کالج میں ایک روسی سائنسدان کو جسے حکومت پاکستان نے سائنس کا نفرنس میں بلوایا تھا ہم نے بھی دعوت دی کھانے پر وہ آیا میری عادت ہے میں کج بحثی سے ہمیشہ بچتارہا ہوں، میری عادت ہے آرام آرام سے بات کروں پھر کوئی دنیا کی بات کر دی پھر کوئی لطیفہ سناد یا پھر کوئی اصولی اسلامی بات کر دی تین چار گھنٹے میں میں نے آہستہ آہستہ، آہستہ آہستہ ڈرلنگ (Drillinag) کیا اس کے دماغ میں زندہ خدا کے زندہ نشانات پر۔اور شام کے وقت اس کا دل اتنا بدلا ہوا تھا کہ میں نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ اس نے کا نٹرنیشن کمپ میں چلا جاتا ہے اگر ذرا بھی بے احتیاطی کی وہاں جا کر اور مجھے شبہ ہے کہ وہ چلا گیا کیونکہ ہم سے کچھ وعدے کر کے گیا تھا جو اس نے پورے نہیں کئے اور آئندہ سال جب ایک اور سائنسدان آیا اور اس کو ہم نے بلایا تو اس کے ساتھ جو انٹر پریٹر تھا اس نے نہ صرف یہ کہ انکار کیا بلکہ پہلے سائنسدان کو گالیاں دیں اور کہا کہ بڑا خبیث آدمی تھا کیوں چلا گیا تھار بوہ۔تو اس سے پتہ لگتا ہے کہ اس پر اثر ہوا بات یہ ہے کہ جو بھی دہر یہ ہمارے سامنے آئے ہم اسے دلیل کے ساتھ قائل نہیں کر سکتے بڑا مشکل ہے۔انسان کے دماغ کو خدا تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ ایک صحیح دلیل کے مقابلہ میں غلط دلیل پیش کرتا ہے اور بہت سی دنیا اس کی قائل ہو جاتی ہے لیکن کوئی شخص دنیا کا معجزہ اور خدائی نشان کے مقابلہ میں ہم سے بات نہیں کرسکتا کیونکہ عقل کی رفعتیں جہاں ختم ہو جاتی ہیں نشان کی بلندیاں وہاں سے شروع ہو جاتی ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے کتنا بڑا انعام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا کیا ہے اَنْعَمتَ عَلَيْهِمْ کے گروہ میں آپ شامل ہو گئے خدا تعالیٰ کے غیر شرعی نبی تھے اور آپ سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ جس طرح پہلے انبیاء پر میرے انعام ہوئے آپ پر بھی ہوں گے اور یہ تو یا ہم نے دیکھے یا ہمارے باپ دادوں نے دیکھے بلکہ انہوں نے بھی دیکھے اور ہم نے بھی دیکھے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو نشانات عطا ہوئے ہیں وہ ایک بڑے وسیع زمانہ پر پھیلے ہوئے ہیں قیامت تک چلتے ہیں دراصل۔بہت سے الہامات ہیں جو آج سے سو سال بعد دو سو سال بعد پورے ہوں گے ابھی کپڑوں سے برکت ڈھونڈ نے