خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 185 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 185

خطبات ناصر جلد دوم ۱۸۵ خطبہ جمعہ ۲۱؍جون ۱۹۶۸ء بہر حال جو بڑی مسجد ہے دارالخلافہ کی۔اس میں کہیں گے کہ جناب تشریف لا ئیں ساری قوم آپ کی منتظر ہوگی اور وہاں آپ نماز ادا کریں مصیبت پڑ جائے گی مجھے۔الحاج گورنر جنرل صاحب نے سوچا اگر یہ حالات پیدا ہو گئے تو میرے لئے بڑی آکورڈ (Awkward) ہوگی۔میں نے تو ان کے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی انہوں نے ہمارے چوہدری محمد شریف صاحب جو انچارج ہیں وہاں کے مبلغ۔کہا کہ اس طرح میں دورے پر جارہا ہوں انہوں نے کوئی خواب بھی دیکھی تھی جس کی تفصیل کا مجھے علم نہیں اشاروں میں ان کی طرف سے اور چوہدری محمد شریف صاحب کی طرف سے یہ اطلاع ملی ہے لیکن بہر حال انہوں نے کہا میں اس طرح جارہا ہوں مقامی ہمارا مبلغ احمدی جو ہے امام مقامی اس کو میرے ساتھ کرو چنانچہ وہ مقامی امام ساتھ گیا۔گورنر صاحب کا امام ساتھ ہو پھر تو کسی کو جرات نہیں ہوتی کہ کسی اور امام کو کہے کہ آپ نماز پڑھا ئیں۔باتھرسٹ جو گیمبیا کا دارالخلافہ ہے وہاں کا جو چیف امام ہے وہ بڑا متعصب ہے متعصب ہی نہیں بلکہ شرارتی بھی ہے اور اس کی ایک شادی سینی گال کے دارالخلافہ میں ہوئی ہوئی ہے اس نے سوچا کہ کوئی کھیل کرنی چاہیے شرارت سو بھی۔وہ اپنے طور پر وہاں پہنچ گیا جو گورنر جنرل صاحب کی ریسپشن (Reception) ہو رہی تھی سینی گال کی طرف سے تو یہ گیا اور اندر جب جانے لگا تو وہاں کے سپاہی جو ڈیوٹی پر کھڑے تھے انہوں نے کہا کہ تمہارا کہاں ہے دعوت نامہ تو اس نے کہا کہ میرے پاس تو دعوت نامہ نہیں ہے لیکن تمہیں پتہ نہیں میں باتھرسٹ کا چیف امام ہوں مجھے کیا ضرورت ہے دعوت نامہ کی ہمارے گورنر جنرل یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں انہی کی تم نے دعوت کی ہوئی ہے مجھے کیا ضرورت ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو یہ دوسرے قسم کے لوگوں میں شامل کرنا تھا کہ نہیں تمہیں دعوت کھلانی۔تو انہوں نے کہا کہ نہیں اس طرح نہیں ہم جانے دیتے اس پر اس نے کہا کہ گورنر جنرل صاحب بیٹھے ہیں آپ ان سے جا کر پوچھ لیں میرے متعلق۔اگر وہ تصدیق کریں کہ میں چیف امام ہوں تو پھر مجھے اجازت دیں ورنہ نہ دیں تو سپاہی کہنے لگا کہ وہ جو گورنر جنرل صاحب ہیں ان کے ساتھ تو اپنا امام بیٹھا ہے تمہیں ہم کیسے جانے دیں۔تو جب بادشاہ وقت مثلاً دعوت پر بلائے جو میں نے مثال دی ہے۔اگر بن بلا یا مہمان کوئی آجائے تو دو قسم کا سلوک اس سے ہوسکتا ہے یا رحم کھا کے