خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 163 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 163

خطبات ناصر جلد دوم ۱۶۳ خطبہ جمعہ ۷ جون ۱۹۶۸ء پس بعض دفعہ تدبیر نا کام ہو جاتی ہے ہر قسم کی تدبیر کی جاتی ہے اور اس کا نتیجہ کوئی نہیں نکلتا کئی دوست خط لکھتے ہیں کہ تجارت کرتے ہیں ہر قسم کے جتن کر دیکھے ہیں فائدہ نہیں ہوتا جس چیز میں ہاتھ ڈالتے ہیں نقصان ہوتا ہے ہر قسم کی تدبیر کی۔احمدی تو تدبیر کا ایک لازمی حصہ چونکہ دعا کو بھی سمجھتا ہے اس لئے وہ دعا جو تد بیر کا حصہ بنتی اور مادی تدبیر کی کامیابی کے لئے کی جاتی ہے اور خدا کی صفت رحیمیت کو جوش میں لاتی ہے وہ بھی کی گئی اور نا کام ہوگئی۔پس انتہائی تدبیر کی کیونکہ مادی تدبیر بھی کی اور اس کے بہتر نتائج کے لئے دعا کی صورت میں روحانی تدبیر بھی کی لیکن نتیجہ سوائے ناکامی کے کچھ نہ نکلا ایسے دوست بہت پریشان ہوتے ہیں اور پر یشانی کا باعث یہ بنتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحیمیت کی صفت کیوں ہمارے حق میں جوش میں نہیں آتی پس بعض دوست پریشانیاں اٹھاتے ہیں ناکامیوں کا منہ دیکھتے ہیں اور میں بھی ان کے لئے پریشان ہوتا ہوں۔پس اگر تد بیر نا کام ہو جائے یا اگر تد بیر سو مجھے ہی نہ ہر دو صورتوں میں ہمیں خدائے رحمن کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے۔جس وقت مریض لاعلاج قرار دے دیا جاتا ہے اور مادی تدبیر کو کامیاب اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے کی گئی دعا ئیں بھی قبول نہیں ہوتیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر مبرم ہے اس وقت اگر رحمان کی صفت رحمانیت کے آگے عاجزی اختیار کی جائے اور اپنے رحمان خدا سے یہ کہا جائے کہ اے ہمارے رب ! تو رحیم بھی ہے، تو رحمن بھی ہے، ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم تیری صفت رحیمیت کا دروازہ کھلوانے میں ناکام ہوئے ہیں اب ہم تیری رحمن ہونے کی صفت کے حضور جھکتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ نہ ہمارا کوئی عمل نہ کوئی تدبیر جس طرح تو نے سورج اور چاند کو نیز بے شمار ستاروں کو ہماری فلاح اور بہبود کے لئے پیدا کیا ہے اب بھی اپنی رحمانیت کی صفت کا ایک جلوہ دکھا اور یہ کام کر دے۔تو جب رشتے دار مایوس ہو جاتے ہیں اور طبیب مریض کو لا علاج قرار دیتا ہے اور وہ دعائیں جو تد بیر کا ہی حصہ ہیں ، تدبیر بھی ہیں ، وہ بھی قبولیت حاصل نہیں کرتیں اس وقت اگر ہم رحمن خدا کا دروازہ کھٹکھٹا ئیں تو بسا اوقات وہ ہمارے لئے کھولا جاتا ہے۔ہمارے رب نے جس طرح بے شمار چیز میں ہمارے اعمال سے بھی پہلے ہمارے لئے پیدا کر دی تھیں اور ان کو ہماری