خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 164
خطبات ناصر جلد دوم ۱۶۴ خطبہ جمعہ ۷ / جون ۱۹۶۸ء خدمت میں لگا دیا تھا وہ خدائے رحمان اپنی تمام قدرتوں اور طاقتوں کے ساتھ آج بھی اسی طرح زندہ ہے جس طرح آج سے پہلے تھا۔غرض جب رحیمیت کا دروازہ نہ کھلے تو ہمیں رحمانیت کے دروازے پہ جا کے کھڑے ہو جانا چاہیے اور یہ عرض کرنا چاہیے کہ تدبیریں تو نے پیدا کیں، ان کے استعمال کا ہمیں حکم دیا ، تدبیروں کو کمال تک پہنچانے کے لئے تدبیر کا ہی ایک حصہ بنا کر تد بیر کی کامیابی کے لئے دعا کا ہم کو حکم دیا، ہم نے اپنے جتن کئے ، ہم کامیاب نہیں ہوئے اس لئے تو ہمارے لئے اپنی صفت رحمانیت کو جوش میں لا اور ہماری ضرورت کو پورا کر جس طرح بے شمار ضرور تیں تو نے ہمارے بغیر کسی عمل اور استحقاق کے اس سے پہلے پوری کر دیں۔یہ رحمن کا جلوہ چوہدری عبد الرحمن صاحب لنڈن نے دیکھا ڈاکٹروں نے کہا تشخیص نہیں کر سکتے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا دے دی بڑا کام کرنے والے ہیں وہ بڑا وقت دیتے ہیں جماعتی کاموں کے لئے۔چار پانچ روز ہوئے ان کا خط آیا ہے کہ میں اب ہسپتال سے گھر آ گیا ہوں بڑا خوش ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے پھر توفیق دی ہے جماعتی کاموں کے کرنے کی تو ہم نے ان کی وساطت سے اور اُنہوں نے اپنی ذات میں خدائے رحمن کی رحمانیت کا جلوہ دیکھا۔پس جو دوست مثلاً اپنی تجارت میں ناکام رہتے ہیں اور بعض تو میرے علم میں ایسے بھی ہیں کہ ساری عمر انہوں نے ناکامیوں کا منہ دیکھا ہے ان کو اس طرف متوجہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ کی صفت رحمانیت کا در کھٹکھٹا ئیں اور اس سے مدد حاصل کریں کیونکہ اگر یہ سچ ہے اور یقینا یہ سچ ہے، کہ جو نعمتیں اور جو مفید چیزیں اللہ تعالیٰ نے ہماری پیدائش سے بھی پہلے ہمارے لئے اور ہماری خدمت کے لئے پیدا کیں ان کا شمار انسان سے نہیں ہو سکتا تو جس رحمان نے اتنی نعمتیں ہماری کسی خدمت یا ہمارے کسی عمل کے نتیجہ میں نہیں بلکہ صرف رحمت کے نتیجہ میں پیدا کیں اس کے متعلق ہم یہ بدلتی نہیں کر سکتے کہ ہماری زندگی میں اگر کسی وقت ضرورت پڑے تو وہ خدائے رحمن ہماری مدد کو نہیں آئے گا ہماری پیدائش سے پہلے بھی اس نے ہماری مدد کی ہمارے فائدہ کی سوچتا رہا ہے تو ہماری پیدائش کے بعد وہ کیسے ہمیں دھتکار دے گا اگر ہم واقع میں اپنے دل میں اس کی معرفت