خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 153
خطبات ناصر جلد دوم ۱۵۳ خطبہ جمعہ ۳۱ رمئی ۱۹۶۸ء حقیقی عبادت کے لئے اللہ تعالیٰ کی مدد اور اُس کا فضل بھی ضروری ہے خطبه جمعه فرموده ۳۱ رمئی ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد ،تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فر مایا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میری بیماری تو بہت حد تک دور ہوگئی ہے لیکن شعف ابھی چل رہا ہے اور بعض دفعہ کافی تکلیف بھی دیتا ہے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کامل صحت اور طاقت اور ہمت دے تا کہ ان ذمہ داریوں کو اللہ کی مرضی کے مطابق میں نباہ سکوں جوذ مہ داریاں اس نے مجھ پر ڈالی ہیں۔اس وقت میں مختصراً جماعت کو ایک بنیادی اور بڑے ہی اہم مسئلہ کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک خاص غرض اور مقصد کے پیش نظر پیدا کیا ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اس کی صحیح اور حقیقی پرستش کرے اور اس کا بندہ بن جائے اور ان انعاموں کو وہ حاصل کرے جو اس نے اپنے حقیقی اور خالص بندوں کے لئے مقدر کررکھے ہیں۔اصولی طور پر دو حقوق انسان پر عائد ہوتے ہیں ایک اللہ کا حق ہے اور ایک وہ جنہیں ہم حقوق العباد کہتے ہیں۔حقوق العباد بھی دراصل حقوق اللہ کی ایک شاخ ہی ہے کیونکہ اگر حقوق اللہ نہ ہوتے تو حقوق العباد بھی نہ ہوتے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ