خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 136
خطبات ناصر جلد دوم ۱۳۶ خطبه جمعه ۱۰ رمئی ۱۹۶۸ء ہوگی۔اس دنیا میں یہ بڑھوتی مال کی بڑھوتی کے رنگ میں بھی ظاہر ہوتی ہے اور تقویٰ اور اخلاص میں بھی انسان کا قدم آگے بڑھتا ہے کیونکہ يَغْفِرُ لکھ وہ روکیں جو انسان کی راہ میں پیدا ہوتی ہیں اور اس کی روحانی ترقیات کو مسدود کر دیتی ہیں انہیں اللہ تعالیٰ دور کر دیتا ہے اور اپنی مغفرت کی چادر میں ڈھانپ لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر قدر کرنے والی اور شکر گزار اور کون ہستی ہو سکتی ہے اگر چہ وہ تمام مادی اموال کا حقیقی مالک ہے اگر چہ جو کچھ ہمیں ملتا ہے وہ اسی کا ہے اور اسی کی عطا ہے لیکن جب وہ اپنے بندوں کو دنیا کے اموال میں سے کچھ دیتا ہے اور اس کے بندے اس کے کہنے پر اس کی رضا کے لئے ان اموال میں سے کچھ واپس کرتے ہیں تو وہ ان کے اس دین کی قدر دانی کرتا ہے اور وہ شکور ربّ ایک تو بڑھوتی کرتا ہے دنیا میں بھی اور روحانی ترقیات کے سامان بھی پیدا کرتا ہے اور اُخروی زندگی میں بھی جو زیادتی ہوگی اس کا تخیل بھی یہ مادی دماغ نہیں کر سکتا کیونکہ چند روزہ زندگی کے چند ناقص اعمال اور قربانیاں جو ایک کمزور انسان خدا کے لئے پیش کرتا ہے اس کے مقابلہ میں ابدی جنتیں اسے عطا کی جاتی ہیں۔اس دنیا میں مختلف رنگ میں یہ بڑھوتی ہوتی ہے اور اس وقت میں ساری جماعت کو عموماً اور اس کے زمیندار حصہ کو خصوصاً اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ گذشتہ ایک دوسال میں اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ زمیندار کی آمد پہلے سے تین گنا ، چار گنا، پانچ گنا ہونی شروع ہو گئی ہے اور اس سے بھی بڑھنے کے سامان ہیں اور توقع اور امید ہے۔پس اگر وہ صحیح طریقوں کو صحیح راہوں کو اختیار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے اموال میں اپنے وعدہ کے مطابق زیادہ برکت ڈالے گا۔لیکن زمیندار جماعتوں کے افراد دو قسم کے ہوتے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں آتا ہے۔ایک تو وہ اعراب وہ دیہاتی ہیں گاؤں میں رہنے والے مَنْ يَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ مَغْرَمًا (التوبة:٩٨) کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی جماعت میں داخل ہوتے ہیں اور جماعت کا قائد اور رہبر انہیں ہر قسم کی قربانیوں کی طرف متوجہ کرتا ہے ان کو اس طرف بھی متوجہ کرتا ہے کہ وہ اپنے اموال اپنے رب کی راہ میں خرچ کریں تو ایسے لوگ ان میں پائے جاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کو