خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 137
خطبات ناصر جلد دوم ۱۳۷ خطبه جمعه ۱۰ رمئی ۱۹۶۸ء ایک چٹی سمجھتے ہیں اور ان کے اندر اسلام کی روح ابھی پختہ نہیں ہوتی ان کی طبیعت میں بشاشت پیدا نہیں ہوتی اور وہ ایمان اور نفاق کی سرحد پر کھڑے ہوتے ہیں (اللہ تعالیٰ انہیں ایمان کی طرف کھینچے اور نفاق سے محفوظ رکھے ) لیکن ان کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مانگا وہ اسی کا تھا شکل ایسی بنا دی کہ اپنی ہی چیز واپس لے کے ہمیں اپنے انعاموں اور رحمتوں کا مستحق وہ قرار دیتا ہے اس سے بھی اگر ہمارے دلوں میں بشاشت پیدا نہ ہو، اس سے بھی اگر ہمارے دلوں سے بخل دور نہ ہو۔اس سے بھی اگر ہم اس کی راہ میں قربانی کو اپنے لئے ہر طرح مفید نہ سمجھیں تو یہ ہماری بد بختی اور ہماری بدقسمتی ہے۔ط لیکن دیہاتی باشندے صرف ایسے ہی نہیں ہوتے بلکہ ایسے بھی ہیں وَ مِنَ الْأَعْرَابِ مَنْ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُرْبَتِ عِنْدَ اللَّهِ وَصَلَوتِ الرَّسُولِ إِلَّا إِنَّهَا قُرُبَةٌ لَهُمْ سَيْدُ خِلْهُمُ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمُ (التوبۃ:۹۹) اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیہاتیوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں اس ایمان میں وہ صادق ہوتے ہیں جو ان کی زبان پر دعویٰ ہوتا ہے ان کے عمل اس کی تصدیق کر رہے ہوتے ہیں اور اس پختہ یقین پر وہ قائم ہوتے ہیں کہ ایک دن ہمیں اس دنیا کو چھوڑنا ہے اور ( حشر کے دن) اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے اور وہ ہم سے ہمارے اعمال کے متعلق پوچھے گا اس لئے جو وہ خرچ کرتے ہیں اپنی قوتوں اور استعدادوں میں سے اللہ کی راہ میں یا اپنے اموال میں سے جو وہ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ تعالیٰ کی قربت کا ذریعہ سمجھتے ہیں یعنی وہ یہ سمجھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ہم معمولی معمولی عارضی فوائد کی قربانی دے کر اللہ تعالیٰ کی ابدی رضا کو ضرور حاصل کریں گے کیونکہ اس کا اس نے وعدہ دیا ہے اور وہ اپنی اس قربانی کو رسول کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کے لئے جو قیامت تک پیدا ہونے والی ہے بہت سی دعائیں کی ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے خلفاء کا ایک لمبا سلسلہ جاری کیا ہے جو قیامت تک ممتد ہے اور وہ رسول کی نیابت میں ان لوگوں کے لئے دعا ئیں کرتے ہیں اور ان کے غموں کو دور کرنے کے لئے دعا اور تد بیر کرتے ہیں اور ان کی خوشیوں میں