خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 120
خطبات ناصر جلد دوم ۱۲۰ خطبه جمعه ۱۹ را پریل ۱۹۶۸ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان باتوں کی طرف اپنی جماعت کو ، اپنے ماننے والوں کو بار بار متوجہ کیا ہے لیکن کم ہیں ہم میں سے جو کثرت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کو پڑھنے والے اور آپ کے ارشادات پر غور کرنے والے ہیں۔اس نیت کے ساتھ کہ جو ہدا یتیں آپ نے ہمیں دی ہیں اور جس رنگ میں اسلام کا نور آپ ہم پر چڑھانا چاہتے ہیں اس میں ہم اپنی کوشش، تدبیر، مجاہدہ اور دعا کے نتیجہ میں کامیاب ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کرے اور ہم وہ بن جائیں جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں دیکھنا چاہتے تھے۔اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض حوالے آپ دوستوں کے سامنے پڑھنا چاہتا ہوں تا آپ یہ سمجھیں کہ آپ (علیہ السلام) کے دل میں کس قدر درد اور تڑپ تھی ان باتوں کے متعلق اور کس قدر تربیت کرنا چاہتے تھے آپ اپنی جماعت کے افراد کی اور کس طرح بار بار اور مختلف طریق سے آپ نے جماعت کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ اگر خدا کے حقیقی عبد اور بندے بننا چاہتے ہو اور اس کی رحمتوں کے وارث بننا چاہتے ہو، ان وعدوں اور بشارتوں کے وارث بننا چاہتے جو آپ (علیہ الصلوۃ والسلام) کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو دی ہیں تو انہیں کن راہوں کو اختیار کرنا چاہیے۔آپ فرماتے ہیں:۔خبر دارر ہو نفسانیت تم پر غالب نہ آوے، ہر ایک سختی کی برداشت کرو، ہر ایک گالی کا نرمی سے جواب دو تا آسمان پر تمہارے لئے اجر لکھا جاوے۔۔۔یاد رکھو کہ ہر ایک جو نفسانی جوشوں کا تابع ہے۔ممکن نہیں کہ اس کے لبوں سے حکمت اور معرفت کی بات نکل سکے بلکہ ہر ایک قول اس کا فساد کے کیڑوں کا ایک انڈا ہوتا ہے، بجز اس کے اور کچھ نہیں۔پس اگر تم روح القدس کی تعلیم سے بولنا چاہتے ہو تو تمام نفسانی جوش اور نفسانی غضب اپنے اندر سے باہر نکال دو تب پاک معرفت کے بھید تمہارے ہونٹوں پر جاری ہوں گے اور آسمان پر تم دنیا کے لئے ایک مفید چیز سمجھے جاؤ گے اور تمہاری عمریں بڑھائی جائیں گی تمسخر سے بات نہ کرو اور ٹھٹھے سے کام نہ لو اور چاہیے کہ سفلہ پن اور او باش پن کا تمہارے کلام پر کچھ رنگ نہ ہو ، تا حکمت کا چشمہ تم پر کھلے۔