خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1031 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1031

خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۲۶ / دسمبر ۱۹۶۹ء تمہیں بھی اس کی عزت اور احترام کرنا پڑے گا اور اگر تم اس کی عزت نہیں کرو گے اس کا احترام نہیں کرو گے تو میری اطاعت کے دائرہ سے باہر ہو جاؤ گے۔پھر بعض حرمتیں انسان کی قائم کی گئی ہیں مثلاً انسان کی یہ عزت اور حرمت قائم کی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم نے کسی انسان پر ظلم نہیں کرنا ( اسی آیت میں جو میں نے پڑھی ہے یہ مفہوم بیان ہوا ہے) اور کسی پر تعدی نہیں کرنی۔پھر انسان کی یہ حرمت بیان کی کہ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں اس سے تعاون کرنا اور نیکی اور بھلائی کے کام دو قسم کے ہوتے ہیں ایک کام تو دنیا سے تعلق رکھنے والے ہیں یعنی وہ کام دنیا کی معاش اور دنیا کی اقتصادیات سے تعلق رکھتے ہیں اور اس میں ایک مسلمان اور غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں ہوتا مثلاً اسلام نے ایک انسان کے اقتصادی حقوق قائم کئے ہیں اب اگر کوئی غیر مسلم اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق یا کچھ فرق کے ساتھ ( بہر حال نیکی کی طرف اس کی طبیعت مائل ہے ) انسان کے اقتصادی حقوق کو قائم کرتا ہے تو مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اس سے تعاون کرے۔کیونکہ تعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَی میں تعاون عَلَى البر میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی شرط نہیں گو تعاون علی التقویٰ میں وہ شرط آجاتی ہے پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جہاں غریب کے محتاج کے، ضرورت مند کے اور مظلوم کے سیاسی اور اقتصادی حقوق دینے کا سوال ہو گا وہاں جو کوئی تقویٰ کے اصول پر یعنی اللہ تعالیٰ سے خوف کرتے ہوئے اور اس کی پناہ میں آکر اور اس کی رضا کے حصول کے لئے یہ کام کرے گا ہر دوسرے مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اس کے ساتھ تعاون کرے اور پھر فرمایا کہ انسان کا یہ حق ہم نے قائم کیا ہے کہ جب وہ گناہ کرنے لگے تو تم نے اس سے تعاون نہیں کرنا۔غرض انسان کی یہ حرمت بھی ہے کہ گناہ میں اس سے تعاون نہیں کرنا کیونکہ اس کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے اور بھی زیادہ آ جائے گا اور اس میں مسلمان اور غیر مسلم سب برابر ہیں۔پھر مسلمان کے متعلق یہ کہا کہ سات سو حکم میں نے تمہیں دیا ہے ان میں سے ہر حکم کوئی نہ کوئی حق ادا کر رہا ہے۔اسلام میں کوئی ایسا حکم نہیں جس کے نتیجہ میں کوئی حق بھی ادا نہ ہورہا ہو۔اسلام کے ہر حکم کے نتیجہ میں کوئی نہ کوئی خدا تعالیٰ کا قائم کردہ حق ادا ہو رہا ہے۔پس کہا کہ جب اللہ تعالیٰ